ٹوٹا دل دوا سے جُڑ سکتا ہے

دل
،تصویر کا کیپشندل ٹوٹنے کے زیادہ تر واقعات موسمِ گرما اور بہار میں ہوتے ہیں

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر علاج کیا جائے تو ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑا جا سکتا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق یہ وہ بیماری ہے جس کا تعلق جذباتی اور ذہنی تناؤ سے بتایا جاتا ہے۔ان میں سے زیادہ تر مریض ایسپرن یا دل کے امراض کی ادویات سے مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے۔ان میں سے بیس فیصد کو شدید یاخطرناک حد تک بیمار بتایا گیا تھا۔

امریکن جرنل آن کارڈیالوجی کے جائزے کے مطابق یہ بیماری تناؤ کے ہارمونز میں اضافے کے سبب ہوتی ہے۔اس بیماری کو طبی زبان میں تکوتسوبو کارڈیومایو پیتھی کہا جاتا ہے۔1990 کی دہائی میں سب سے پہلے جاپانی ماہرین نے اس بیماری کی شناخت کی۔

حالانکہ اس بیماری کی علامتیں دل کا دورہ پڑنے جیسی ہوتی ہیں جیسا کہ سینے میں درد اور سانس کا پھولنا وغیرہ۔لیکن یہ عارضی ہوتی ہے اور اگر فوری طور پر علاج کیا جائے تو اس بیماری کو پوری طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔

اس جائزے میں شامل 67 فیصد لوگ کسی طرح کے جسمانی یا جذباتی حادثے کا شکار ہوئے تھے جیسے کہ کسی رشتے دار کے بارے میں کوئی بُری خبر، کوئی گھریلو جھگڑا یا پھر کوئی جسمانی بیماری یا حادثہ۔مجموعی طور پر ان میں سے اکثریت کو ہسپتال میں ایسپرن یا دل کے امراض کی ادویات دی گئیں اور بیشتر مریض اگلے 48 گھنٹوں میں پوری طرح ٹھیک ہو گئے۔

اس بیماری کے بارے میں ماہرین کی مختلف رائے ہے کچھ کا کہنا ہے کہ یہ دل کے دورے کی ہی ایک ابتدائی شکل ہے جو جان لیوا نہیں ہے اور دل کے پٹھوں کو کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچاتی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بیماری کا دل کی شریانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کا تعلق دل کے پٹھوں سے ہے۔

میریم ہسپتال کے ڈاکٹر رچرڈ ریگنانتے کا کہنا ہے کہ اس جائزے سے دل کے ماہرین کو اس طرح کے مریضوں اور ان کی علامتیں سمجھنے میں مدد ملے گی لیکن ابھی اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔