’لامحدود سستی توانائی کا خواب قریب تر‘

امریکہ میں ایک بڑے اور اہم تجربے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جس کے تحت سورج کے مرکز جیسے حالات پیدا کیے جائیں گے۔ تجربہ گاہ میں صاف توانائی کے حصول میں نیوکلیائی انفجار کی افادیت معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
تجربے کے آغاز میں ایک سو بانوے طاقتور شعاؤں کو ہائیڈروجن کے ایندھن کے انتہائی چھوٹے ٹکڑے پر مرکوز کیا جائے گا۔ تجربے کی کامیابی کا انحصار یہ ثابت کرنے پر ہوگا کہ اس عمل کو شروع کرنے کے لیے جتنی توانائی چاہیے اس سے زیادہ اس کے مکمل ہونے پر پیدا کی جا سکے گی۔
یورپ میں اسی طرح کے ایک منصوبے پر کام کرنے والے پروفیسرمائیک ڈن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تجربے کی کامیابی ’انقالاب انگیز‘ واقعہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نیوکلیائی انفجار طبعیات کی مد سے نکل کر انجنیئرنگ کی حقیقت بن جائے گا۔
امریکہ میں تیار ہونے والی تجرباہ گاہ بارہ سال میں بنی اور یہ اسکی سب سے بڑی سائنسی تجربہ گاہ ہے۔ تجربہ گا کے منتظم اعلیٰ ڈاکٹر ایڈ موزز نے کہا کہ تجربہ گاہ کے قیام کو سنگ میل قرار دیا۔
اننوں نے کہا کہ ان کا مقصد پہلی بار تجربہ گاہ میں نیوکلیائی انفجار پیدا کرنا اور توانائی حاصل کرنا ہے اور وہ اس مقصد کے بالکل قریب ہیں۔ تجربے کا آغاز جون دو ہزار نو میں ہوگا اور اس کے نتائج دو ہزار دس اور دو ہزار بارہ کے درمیان متوقع ہیں۔
نیوکلیائی انفجار لامحدود اور ماحول دوست طریقے سے توانائی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے لیکن اس کے لیے قابل عمل ری ایکٹر کی تیاری کئی دہائیوں سے سائنسدانوں کے لیے ایک چیلنچ بنی ہوئی تھی۔ لیکن اب ان کا خیال ہے وہ اپنے خواب کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
نیوکلیائی انفجار کے عمل میں ہائڈروجن کی دو اقسام ڈیوٹریم اور ٹریٹیم کے ملاپ سے ہیلیم بنتی ہے۔ ڈیوٹریم عام طور پر سمندر کے پانی میں ملتی ہے جبکہ ٹریٹیم لیتھیم سے حاصل کی جا سکتی جو مٹی میں آسانی سے دستیاب ہے۔ جو ان کو انتہائی درجہ حرارت پر ملانے سے تھوڑا سا مادہ ضائع ہوتا اور بڑی مقدار میں توانائی پیدا ہوتی۔















