امریکہ کو ڈیجیٹل فوج کی ضرورت

اطلاعات کے مطابق امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے، نیشنل سکیورٹی ایجنسی، کے سربراہ نے کہا ہے کہ مستقبل میں امریکہ کو ڈیجیٹل جنگ کی ماہر فوج کی ضرورت ہوگی۔
یہ بات لیفٹنٹ جنرل کِیتھ الگزینڈر نے، جو پینٹاگن کی نئی سائبر کمانڈ کے سربراہ بھی ہیں، مسلح افواج سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو سائبر حملہ کرنے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے تنظیمِ نو کی ضرورت ہے۔
جنرل کِیتھ الگزینڈر نے کہا ’جس طرح سے سائبر سپیس کی ترقی اور ارتقا ہو رہا ہے، اس کی اہمیت اور پیچیدگی بڑھ رہی ہے، ہماری قوم کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی میں اپنی سبقت برقرار رکھے اور اس نئی دنیا میں آزادی کے ساتھ اپنے مقاصد کے لیے کام کرے۔‘
ان کے بقول ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ اس کی کمزوریاں بھی آشکارا ہوتی ہیں جن کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’سائیبر سپیس میں نقل و حرکت کی آزادی امریکی مفادات کے لیے بالکل اسی طرح سے اہم ہے جس طرح انیسویں صدی میں سمندروں اور بیسویں صدی میں فضاؤں تک رسائی اہم تھی۔‘
رپورٹ کے مطابق سائیبر سپیس امریکہ کے دشمنوں کو پنپنے کا ماحول فراہم کرتا ہے اور امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی حفاظت کے لیے چوکنا رہے۔
اطلاعات ہیں کہ سائیبر سکیورٹی سے متعلق وائٹ ہاؤس کی جائزہ رپورٹ جلد ہی شائع کر دی جائے گی اور کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما انفرمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی سے متعلق کسی تقرری کا بھی اعلان کریں گے۔



