بڑی عمرتک کام کریں، رعشہ سےبچیں

ایک تحقیق کے مطابق بڑی عمر تک کام کر نے سے ذہن فعال رہتا ہے جس سے رعشہ کےمرض سے بچا جا سکتا ہے۔تحقیق کاروں نے حافظے کی کمزوری کا شکار ایک ہزار تین سو بیس افراد کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جن میں 382 مرد تھے۔
تحقیق سے پتہ چلا کہ جو مرد بڑی عمر تک کام کرتے رہے ان کا ذہن فعال رہا جس سے ان لوگوں کے حافظے کی کمزوری کا مسئلہ ٹل گیا۔
یہ تحقیق لندن کے کنگز کالج نے کی ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں تقریباً سات لاکھ افراد حافظے کی کمزوری کا شکار ہیں اور ماہرین کے اندازے کے مطابق سنہ 2051 تک یہ تعداد سترہ لاکھ ہو سکتی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق اس مرض پر حکومت ہر سال سترہ بلین پاؤنڈ خرچ کرتی ہے۔حافظے کی کمزوری دماغ میں خلیوں میں زبردست کمی کے سبب ہوتی ہے۔اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ذہنی خلیوں کو زیادہ سے زیادہ متحرک رکھا جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ انسان ذہنی طور پر مصروف رہے۔
ایسی شہادتیں بھی موجود ہیں کہ اچھی تعلیم بھی اس بیماری کو ٹالنےمیں مددگار ثابت ہوتی ہے۔جو لوگ جلدی ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں ان میں رعشہ یا حافظے کے کمزور ہونے کی بیماری نسبتاً ان لوگوں سےجلدی آتی ہے جو دیر سے ریٹائر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے خیال میں اگر اس بات کو سمجھنا ہے کہ اس بیماری کو مؤثر انداز میں کیسے ٹالا جا سکتا ہے تو اس سمت میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

















