انِٹل اور نوکیا کی شراکت داری

کمپیوٹر چپ ِ بنانے والے دنیا کے سب سے بڑے ادارے اِنٹل اور سب سے زیادہ موبائل فون بنانے والا ادارہ نوکیا اب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
انِٹل اور نوکیا کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے تعاون کی شراکت داری سے کمپیوٹر اور موبائل ٹیکنالوجی سے مصنوعات تیار کی جائیں گی جو موجودہ سمارٹ فونز ، نیٹ بکس اور نوٹ بکس سے بہت زیادہ جدید قسم کی ہونگی۔
لیکن دونوں کمپنیوں کے مطابق ابھی یہ بتانا قبل از وقت ہوگا کہ تیارہ کردہ مصنوعات کس طرح کی ہونگی۔نوکیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی کی وجہ سے انِٹل کو حقیقت میں پہلی بار موقع ملا ہے کہ وہ اربوں ڈالر کی موبائل انڈسٹری میں داخل ہو سکے۔
انِٹل کے نائب سینئیر نائب صدر آنند چندرشیکھر کا کہنا ہے کہ شراکت داری کی وجہ سے دونوں کمپنیوں کی آمدن میں اضافے کے مواقع پیدا ہونگے اور اس کے ساتھ کمپیوٹر اور موبائل فون ایک نئے دور میں داخل ہونگے۔
نوکیا کے ایگزیکٹو نائب صدر کا کہنا ہے کہ تعاون کا معاہدہ نہ صرف دونوں کمپنیوں کے لیے سازگار ثابت ہو گا بلکہ ہماری صنعت ، شراکت داروں اور گاہکوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
اے بی آئی ریسرچ کے مطابق دنیا میں اس وقت ایک ارب بیس کروڑ موبائل فون سالانہ فروخت ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب دنیا میں اس وقت دس میں سے آٹھ ذاتی کمپیوٹرز میں انِٹل کا پروسیسر استعمال ہو رہا ہے۔ نوکیا نے اپنے گاہکوں کی تعداد میں ایک ارب تک اضافہ کیا ہے لیکن ابھی بھی امریکہ اور یورپ میں اس کا شمار موبائل فون فروخت کرنے والی بڑی کمپنیوں میں نہیں ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے دونوں کمپنیوں کی شراکت داری کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے لیے اہم ثابت ہو گا۔ لیکن انٹل اور نوکیا کی شراکت کی وجہ سے اے آر ایم کے لیے ایک مقابلے کی ایک کٹھن دوڑ ثابت ہو سکتی ہے جو اس وقت موبائل فونز کو سب سے زیادہ چپ فراہم کر رہا ہے۔
تجزیہ کار جیری پوڈی نے کہا ہے کہ معاہدے دونوں کمپنیوں کو تقریباً ایک جیسا فائدہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں کی مشترکہ مصنوعات مارکیٹ میں آنے میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگے گا لیکن دونوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ مارکیٹ کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شراکت کے اس معاہدے کی وجہ سے کئی سالوں تک سمارٹ فونز کو استعمال کرنے میں اضافہ ہو گا اور اس وقت ایسے فونز کا استعمال دس فیصد ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں اس کا استعمال پچاس سے ساٹھ فیصد ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















