کیا ہوا کا ڈیزائن بن سکتا ہے؟

سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کی دنیا کے مفکر آکسفورڈ میں اکٹھے ہو رہے ہیں جہاں وہ دنیا کے مستقبل کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ ٹیکنالوجی، انٹرٹینمنٹ اور ڈیزائن(ٹی ای ڈی گلوبل) کے نام سے ہونے والا یہ اجتماع امریکہ میں اسی طرح کی ایک تقریب کی نقل ہے۔
ماضی میں اس طرح کی کانفرنسوں میں امریکی صدور اور نوبل انعام یافتہ لوگ حصہ لے چکے ہیں۔ یہ کانفرنسیں نئے نظریات اور خیالات کے لیے وقف ہوتی ہیں۔
اس سال کی کانفرنس اکنامکس، نیورو سائنس اور علم فلکیات کی شاخ ایسٹرو فزکس کے بارے میں ہوگی۔ یورپ میں ٹی ای ڈی کے منتظم نے کہا کہ اس کا تعلق افراد، معاشرے اور دنیا کی زندگی کے ان پہلووؤں سے جو ابھی پوشیدہ ہیں یا ان کے بارے میں ہمیں پوری معلومات نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ایک مثال انسانی دماغ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جن باتوں پر غور کیا جانا ہے ہے ان میں یہ سوالات کہ آیا زندگی ریاضی کے ایک مسئلہ کی طرح ہے، انسانی دماغ تحریک کہاں سے آتی ہے اور کیا ہوا کا ڈیزائن بنانا ممکن ہے۔
کانفرنس میں ہر مقرر کو بات کرنے کے لیے اٹھارہ منٹ دیے جاتے ہیں۔ اس سال کے مقررین میں ایک وائرلیس الیکٹریشن، مقولہ ساز اور اونچائی پر کام کرنے والے ماہرین آثار قدیمہ شامل ہیں۔
کانفرنس میں شرکت کے لیے بھی چھانٹی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ حاضرین کی تعداد سات سو ہے اور شرکت کی فیس فی کس دو ہزار سات سو پاؤنڈ ہے۔ حاضرین کو کانفرنس کی دعوت حاصل کرنے کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے جس میں مضمون بھی لکھوائے جاتے ہیں۔
ٹی ای ڈی میں ماضی میں پڑھے جانے والے مضامین میں سے چار سو انٹرنیٹ پر بغیر کسی معاوضے کے میسر ہیں جنہیں ایک کروڑ پچاس لاکھ لوگ دیکھ چکے ہیں۔ آکسفورڈ میں ہونے والی کے کانفرنس اکیس سے چوبیس چولائی تک جاری رہے گی۔


















