برطانوی ہیکر اپیل ہار گیا

گیری مکینن
،تصویر کا کیپشنگیری ایسپرجر سنڈروم کے مریض ہیں

برطانوی ہیکرگیری میکنن امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف ہائی کورٹ میں کی جانے والی اپیل ہار گئے ہیں۔

تینتالیس سالہ برطانوی شہری پر امریکہ سنہ دو ہزار ایک اور دو کے دوران امریکی فوج اور ناسا کے کمپیوٹر سسٹم ہیک کرنے کے الزام میں ان پر امریکہ میں مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔

گیری مکینن نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ہیکنگ کی تھی تاہم گیری کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی غلط ارادے سے نہیں بلکہ وہ آسمانی مخلوق کے بارے میں معلومات تلاش کر رہے تھے جو ان کے خیال میں امریکی حکومت نے خفیہ رکھی ہوئی ہیں۔

گیری مکینن نے اپنے خلاف برطانیہ میں کیس چلائے جانے کے فیصلے کو رد کیے جانے پر سکرٹری داخلہ اور پبلک پروسیکیوشن کے ڈائریکٹر کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔گیری ایسپرجر سنڈروم کے مریض ہیں اور ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ اگر ان کو امریکہ کے حوالے کیا گیا تو ڈر ہے کہ وہ خودکشی کی کوشش کریں گے۔

اکتالیس صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جج نے کہا ہے کہ امریکہ کے حوالے کیا جانا ’ان کے جرم کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق ہے‘۔

اگر امریکہ میں ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں ستر سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

عدالت کے باہر بات کرتے ہوئے ان کی والدہ جینس شارپ کا کہنا تھا کہ ’ وکیل کی غیر موجودگی میں کپیوٹر کے غلط استعمال کو تسلیم کرنا ان کے بیٹے کی ناسمجھی تھی‘۔

انہوں نے کہا ’ہمیں اس فیصلے پر بہت دکھ پہنچا ہے اور اگر قانون کہتا ہے کہ اس طرح کسی کی زندگی برباد کرنا انصاف ہے تو یہ ایک برا قانون ہے‘۔