مخالفین کی انٹرنیٹ ڈومین کے لیے مہم

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے دو مخالف گروپوں نے انٹرنیٹ ڈومین eco. (ڈاٹ ایکو) حاصل کرنے کے لیے اپنے حمایتیوں کی صفحہ بندی شروع کر دی ہے۔
رواں سال مارچ میں امریکہ کے سابق نائب صدر ایل گور نے کیلیفورنیا کے ایک گروپ ’ڈاٹ ایکو‘ کی اس نئی ڈومین کو حاصل کرنے کی مہم کی حمایت کی تھی۔
لیکن اب ماحولیات کے لیے کام کرنے والا ایک کینیڈین گروپ ’بِگ روم‘ بھی اس ڈومین کو حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گیا ہے۔
اس نئی ’ڈاٹ ایکو‘ ڈومین کو ایسی ویب سائٹیں استعمال کر سکیں گی جو ماحولیات سے متعلق ہوں گی۔
دونوں گروپ انٹرنیٹ کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کو چلانے والی تنظیم انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائینڈ نیمز اینڈ نمبرز یا (ICANN) کو دو ہزار دس کے شروع میں یہ ڈومین بنانے کے لیے درخواست کریں گے۔
کیلیفورنیا کے گروپ ’ڈاٹ ایکو‘ کے مائنر چائلڈرز نے بی بی سی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دو مختلف درخواست دہندہ ہیں جن کا بزنس آئیڈیا بھی مختلف ہے‘۔
انہوں نے کہا ’ہمارا آئیڈیا یہ ہے کہ ہم اس ڈومین کے نام کو بیچ کر ایسے اداروں کے لیے فنڈ جمع کریں گے جو تبدیلی لا سکتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دنیا میں کہیں بھی ماحول کو بہتر بنانے کے مقصد سے ہونے والے کام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

’بگ روم‘ کا بھی اس ڈومین کے ایڈرسوں کو بیچ کر اس سے حاصل ہونے والے سرمائے سے دنیا بھر میں مختلف پروجیکٹ کے لیے فنڈ مہیہ کرنا ہے۔
بگ روم کا ماننا ہے کہ اس ڈومین کو ماحولیت کے لیے کام کرنے والی کمپنیوں کی شناحت کے سسٹم کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بگ روم کے ٹریوور باؤڈن کا کہنا ہے کہ ’ایسی کمپنیاں اور ادارے جو بِگ روم کے ذریعے اس ڈومین کے لیے درخواست دیں گے انہیں ویب ایڈریس حاصل کرنے کے لیے مخصوص شرائط پر پورا اترنا ہوگا‘۔
’جیسا کہ کمپنیوں کو درخواست دینے کے لیے کاربن کے اخراج کے بارے میں معلومات شائع کرنا ہوں گی‘۔
انہوں نے کہا ’ یہ شرائط بین الاقوامی ادراوں کے تعاون سے ترتیب دی جائیں گی‘۔
ڈاٹ ایکو گروپ کے مسٹر چائلڈرز کا کہنا ہے کہ ان کی سکیم میں بھی درخواست دہندہ کو بعض شرائط پر پورا اترنا ہوگا لیکن ان کی
پسند نہیں ہوگی‘۔
’میرا خیال ہے کہ ہماری ویب سائٹوں کو ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ایک تیرہ سالہ شخص کو بھی یہ موقع فراہم کرنا چاہیے کہ اس کی بھی ایک ویب سائٹ اور کاروبار ہو‘۔
مسٹر چائلڈز کا کہنا ہے کہ اس نئی ڈومین ڈاٹ ایکو کے لیے ترتیب دیے گئے ماڈل میں فرق ہونے کے باوجود دونوں گروپوں کو کسی موقع پر ’ضرور مل کر بیٹھنا‘ ہوگا۔





















