کانگو میں گوریلوں کا شکار

- مصنف, جوڈی بورٹن
- عہدہ, ارتھ نیوز رپورٹر
ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں ہر ہفتے دو گوریلوں کو ہلاک کر کے ان کا گوشت مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔
گوریلوں کا شکار جمہوریہ کانگو کے علاقے کویلو میں ہوتا ہے اور ان کا گوشت ایسے تاجروں کے ہاتھوں بیچا جاتا ہے جو اسے بڑے شہروں کی مارکیٹوں میں بیچتے ہیں۔
یہ تحقیق جنگلی حیات کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم اینڈینجرڈ سپیشیز انٹرنیشنل کے تحت کی گئی ہے۔ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہر سال سینکڑوں گوریلوں کو ہلاک کر کے علاقے سے باہر لے جایا جاتا ہے۔
تنظیم نے نمائندوں نے تحقیق کے دوران بھیس بدل کر جمہوریہ کانگو کے دوسرے بڑے شہر پوائنت نواغ میں گوریلے کا گوشت بیچنے والوں اور تاجروں سے بات چیت کی ہے۔
تحقیق کار مہینے میں دو بار مارکیٹ میں جاکر گوریلے کے گوشت کی تجارت کا جائزہ لیتے رہے تاکہ اس بات کا اندازہ ہو سکے کہ یہ کاروبار کیس پیمانے پر ہو رہا ہے۔
تنظیم کے صدر پیئر فیدینسی کے مطابق گوریلے کے گوشت کے ایک ٹکڑے کو چھ ڈالر میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ اس کے پنجے بھی فروخت کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔
’وقت کے ساتھ ساتھ ہم گوریلے کا گوشت فروخت کرنے والوں اور اس کے تاجروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ان سے ہمیں اس بات کا پتا چلا کہ سارا گوشت صرف ایک ہی علاقے سے آ رہا ہے۔‘
بعد میں تنظیم کی ایک ٹیم نے کویلو کے اس علاقے کا دورہ کیا جہاں سے گوریلے کو گوشت لایا جا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’تحقیق کے دوران لیے گئے انٹرویو اور فیلڈ سروے کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاقے میں صرف دو سو گوریلے رہ گئے ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ گوریلوں کی چار فیصد آبادی کو ہر ماہ اور پچاس فیصد آبادی کو ہر سال ہلاک کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔‘





















