مقامی زبانوں کا خاتمہ تیز تر

دنیا بھر میں کم سے کم سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن آنے والی دہائیوں میں ان کی تعداد تیزی سے کم ہونے کی امید ہے۔ سوال یہ ہے کہ زبان کے ختم ہونے سے نقصان سے کیا ہوتا ہے؟
امریکہ میں انیس سو بانوے میں ایک ماہرِ لسانیات کی اس پیشینگوئی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا کہ سن اکیس سو میں دنیا کی نوے فیصد زبانیں ختم ہو چکی ہوں گی۔
فرانس کے ماہر لسانیات کلاڈ نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں کو زبانوں کے خاتمے سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے انگریزی کی ترویج پر دھیان نہ دیا تو یہ بالآخر زیادہ تر دوسری زبانوں کو کھا جائے گی‘۔
امریکی تنظیم ’ایتھنولوگ‘ جو دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کا ریکارڈ رکھتی ہے کا کہنا ہے کہ چار سو تہتر زبانیں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اس فہرست میں شامل امریکہ کی ایک زبان ’لیپا اپاچی‘ بولنے والے صرف دو لوگ زندہ ہیں، کولمبیا میں ’توتورو‘ چار لوگ بولتے ہیں اور کیمرون میں بکیا زبان صرف ایک شخص بولتا ہے۔
کلاڈ کا کہنا ہے کہ جب زبان مرتی ہے تو ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ، فطرت کے ساتھ اور دنیا کے ساتھ انسانی تعلق کے اظہار کا ایک طریقہ ختم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان زبانوں کے ختم ہونے سے مختلف گروہوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سوچ کا نشان مٹ جاتا ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف لوگوں نے زندگی کو کس طرح دیکھا۔
کلاڈ نے کہا کہ بہت سے لوگ اپنی مرضی سے زبان چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی زبان کی جدید دنیا میں کوئی افادیت نہیں اور ان کے بچے قبائلی زبان سیکھ کر کہیں پہنچ نہیں سکتے۔

















