’ڈینمارک:معاہدے کی امید نہیں‘

آلودگی
،تصویر کا کیپشنیورپی یونین دو ہزار بیس تک ماحول آلودہ کرنے والی گیسوں کے اخراج کو بیس فیصد کم کرنے کی پابند ہے

ڈینمارک کے وزیر اعظم لارس ریسموسن نے کہا ہے کہ انہیں دسمبر میں کوپن ہیگن میں ہونے والی ماحول کی عالمی کانفرنس میں قانونی طور پر پابند کرنے والے کسی معاہدے کی امید نہیں۔

ڈینمارک کے وزیر اعظم کا بیان یورپی یونین کے اس سربراہی اجلاس سے پہلے جاری ہوا ہے جس میں بدلتا ہوا ماحول اہم موضوع ہوگا۔ اجلاس میں جمہوریہ چیک کی معاہدہ لسبن کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔

لسبن معاہدے کے تحت یورپی یونین کے کل وقتی صدر کا عہدہ بھی بنایا جائے گا۔ اجلاس میں یورپی یونین کے رہنما اس عہدے کے لیے مناسب نام پر بھی غور کریں گے۔

دسمبر میں ماحول کے بارے میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے لوگوں کو قوی امیدیں وابستہ تھیں کہ اس میں ماحول کے مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے عالمی معاہدے پر اتفاق ہو جائے گا۔

وزیر اعظم ریسموسن کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روکنے کے لیے اس اجلاس میں اتفاق رائے ممکن نہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ اگر کوئی قانونی معاہدہ نہ بھی طے پایا تو انہیں یقین ہے کہ سیاسی سطح پر اتفاق رائےضرور ہو جائے گا۔

دریں اثناء برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں ارکان اس بات پر اپنے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کریں گے کہ ترقی پذیر ممالک کو ماحول کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کے ہر رکن کو کتنی امداد دینی چاہیے۔

یورپی کمیشن نے یورپی یونین کو تجویز پیش کی ہے کہ سن دو ہزار تیرہ سے وہ ترقی پذیر ممالک کو ماحول کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سالانہ پندرہ ارب یورو ادا کرے گا۔

تاہم ماحول کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپ کو اس سے دوگنی رقم ادا کرنی چاہیے۔