چاند پر پانی کے ’اہم‘ شواہد

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ اسے چاند پر بڑی مقدار میں پانی کے شواہد ملے ہیں۔ اکتوبر میں ناسا نے دو مصنوعی خلائی اجسام کا چاند کی سطح سے ٹکراؤ کیا تھا تاکہ اس سے اڑنے والی گرد میں پانی کے کیمیائی اجزاء کی نشاندہی کی جا سکے۔ناسا کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے چاند پر پانی کی وافر مقدار میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد میں پچھلے کئی سالوں سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں وہاں پر برف ملی اور چند ماہ قبل بھارت کے چندریان سیٹلائٹ سمیت تین مصنوعی سیاروں سے ملنے والی معلومات سے چاند کی سطح میں پانی کے قطروں کا پتہ چلا تھا۔ اب چاند کے جنوبی قطب پر پانی کی تلاش کے تجربے کو ناسا نے کامیاب قرار دیا ہے۔
اکتوبر میں ناسا نے چاند کی سطح سے دو راکٹ ٹکرائے تھے۔ پہلے راکٹ نے ٹکرانے کے بعد گرد و غبار اڑایا اور اس کے کچھ دیر بعد دوسرے راکٹ نے معلومات اکٹھی کر کے زمین پر بھیجیں اور خود بھی چاند سے جا ٹکرایا۔

ان معلومات کے مطالعے کے بعد ناسا کا کہنا ہے کہ چاند پر قطروں یا برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کی شکل میں ہی نہیں بلکہ پانی کی بڑی مقدار میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس پیش رفت سے چاند کی تحقیق کو نئی زندگی ملی ہے اور اُن اندازوں کو تقویت ملی ہے کہ چاند پر برف اربوں سالوں سے موجود ہے اور اس برف کے مطالعے سے زمین اور نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ جاننے میں مدد ملے گی۔ اس تاریخ پر تحقیق کے لیے پانی کی وافر مقدار میں موجودگی سے انسان، چاند پر طویل عرصے تک قیام کر سکے گا۔
چین، روس، بھارت اور جاپان سمیت کئی ممالک چاند پر جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امریکہ کا بھی دو ہزار بیس تک اپنے خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ ہے۔

















