زحل کے چاند پر کشتی اترے گی!

یہ مشن جنوری دو ہزار سولہ میں روانہ کیا جا سکتا ہے جس پر تقریباً چار سو ملین ڈالر لاگت آئے گی
،تصویر کا کیپشنیہ مشن جنوری دو ہزار سولہ میں روانہ کیا جا سکتا ہے جس پر تقریباً چار سو ملین ڈالر لاگت آئے گی

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کو زحل کے چاند ’ٹائٹن‘ کے سمندر میں کشتی اتارنے کی ایک دلیرانہ تجویز پیش کی جانے والی ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم کی نظر میں جو یہ تجویز پیش کرنے والی ہے، ٹائٹن کی سطح پر ایک کشتی اتاری جائے۔ ناسا کو اس مِشن پر ایک انوکھا پاؤر سسٹم بھی ٹیسٹ کرنے کا موقع ملے گا۔

یہ مشن زمین کے علاوہ کسی اور سیارے کے ’سمندر‘ پر پہلا مشن ہو گا۔ سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ایلن سٹوفن کا کہنا ہے کہ ’ یہ ایک ایسی چیز ہو گا جو واقعی میں تصور کو تسخیر کر سکے گا۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے انسان نے زمین پر سمندری سفر کے ذریعے چیزوں کو دریافت کیا ہے لیکن اس مشن کے ذریعے زمین سے دور کسی سمندر کو تسخیر کرنے کا خیال بہت سارے لوگوں کے لیے بہت حیران کن ہو گا۔

ٹائٹن کے معمہ کو جاننے کے لیے اس مشن پر گزشتہ دو سال سے کام ہو رہا ہے۔ اس مشن پر قدرے کم لاگت آئے گی اور اس کا تخمینہ چار سو ملین ڈالر تک لگایا گیا ہے۔

اس مشن کو جنوری دو ہزار سولہ میں روانہ کیا جا سکتا ہے اور یہ کشش ثقل سے توانائی حاصل کرنے کے لیے زمین اور مشتری کے گرد چکر لگانے کے بعد جنوری دو ہزار تئیس میں ٹائٹن کے چاند پر اترے گا۔ اس مشن کے کا مقصد ٹائٹن کے سمندر کے بارے میں مزید جاننا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک سمندری جہاز ٹائٹن کے میتھین کے ذخائر پر پانچ سو کلومیٹر تک سفر کرے گا۔

اس وقت زحل کے مدار میں موجود خلائی تحقیقاتی گاڑی کیسینی کے آلات نے ثابت کیا ہے کہ ٹائٹن کی سطح پر بہت بڑی ندیاں اور بارش کی وجہ سے بننے والے دریا وادیوں کو بہا کر لے جاتے ہیں۔

ٹائٹن کی زمین سے کئی معملات میں مشابہت ہے جس میں پانی کے سائیکل کا موجود ہونا۔ ٹائٹن کے درجہ حرارت کی وجہ سے اس کی سطح پر پانی موجود نہیں ہے بلکہ مائع ہائیڈرو کاربنز ہیں جو مسلسل گھومتے رہتے ہیں۔

اس سے پہلے دو ہزار پانچ میں سائنسدانوں کو اس وقت ٹائٹن کی سطح سے کئی گھنٹوں کا ڈیٹا حاصل ہوا تھا جب ایک مشن اس پر اترا تھا۔

اب ان سائنسدانوں میں سے متعدد ایک لمبی مدت کے لیے زحل کے چاند پر دوبارہ جانے کے لیے بے چین ہیں، لیکن اس بار میتھین، ایتھین، پروپین کے علاوہ مختلف اقسام کے ہائیڈرو کاربنز کے ذخائر پر تحقیق کی جائے گی۔