نیکسس ون:گوگل کو شکایات کا سامنا

نیکسس ون
،تصویر کا کیپشننیکسس ون کے صارفین ای میل سپورٹ کو پسند نہیں کر رہے

گوگل کو اپنے نئے سمارٹ فون کے صارفین کی جانب سے شکایات کا سامنا ہے۔

گوگل نے اپنا نیکسس ون سمارٹ فون پانچ جنوری کو فروخت کے لیے پیش کیا تھا اور اسے کسی بھی فون نیٹ ورک پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ فون خریدنے والے افراد مخمصے کا شکار ہیں کہ ان کی شکایات یا سوالات کا جواب کون دے گا۔ گوگل نے صارفین کے سوالات کا جواب دینے کے لیے صرف ایک ای میل پتہ فراہم کیا ہے جبکہ صارفین نے مختلف چیٹ فورمز پر صارفین کی مدد کے لیے گوگل سے فون سروس کے آغاز کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

امریکہ میں گوگل کا نیکسس ون فون براۃ راست گوگل سے پانچ سو انتیس ڈالر یا پھر ٹی موبائل کے کانٹریکٹ کے ہمراہ ایک سو اناسی ڈالر میں خریدا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں یہ فون ووڈا فون کمپنی فراہم کرے گی تاہم تاحال فون یا اس سے متعلقہ پیکج کی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

گوگل نے نیکسس ون کے لیے جو امدادی فورم فراہم کیے ہیں ان پر بھی صارفین کی شکایات کی بھرمار ہوگئی ہے۔ سب سے عام شکایت فون کی قیمت کے حوالے سے ہے اور صارفین جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اس کی کیا قیمت ادا کریں اور آیا ٹی موبائل کے موجودہ صارفین کو کیا یہ فون کم قیمت پر دستیاب ہوگا یا نہیں۔

قریباً پانچ سو افراد نے نیکسس ون کے تھری جی وائرلیس نیٹ ورک کی سپورٹ کے حوالے سے شکایات درج کی ہیں جبکہ دیگر افراد نے دوسرے فون سے نیکسس ون میں معلومات کی منتقلی کے موقع پر ’بگ‘ کی موجودگی کی شکایت ظاہر کی ہے۔

بہت سے صارفین کو شکایت ہے کہ گوگل ان کی شکایت کا جواب داخل کرنے میں بہت تاخیر کر رہا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ وہ تمام شکایات کا جواب بذریعہ ای میل دے گا اور اس میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں۔

ایک فورم پر رائے دینے والے صارف سینیا کوفمین کے مطابق ’اس وقت سب کچھ گڑبڑ ہے‘ جبکہ گوگل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے نیکسس کے اجراء کے حوالے سے اپنی ساتھی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے تاکہ اس حوالے مدد مختلف چینلز پر مہیا ہو سکے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ موبائل فون کی خریداری اور اس حوالے سے مدد حاصل کرنے کا نیا طریقہ ہے اور ہم اس کی راہ میں حائل دشواریاں دور کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘۔