’حمل سے حافظہ کمزور نہیں ہوتا‘

حاملہ خواتین
،تصویر کا کیپشنحمل کی وجہہ سے نہیں بلکے تھکاوٹ کی وجہ سے انسان چیزیں بھولنے لگتا ہے

محققین کا کہنا ہے کہ حمل کی وجہ سے خواتین کا حافظہ متاثر نہیں ہوتا اور اس روایتی تاثر کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

سائنسی جریدے ’دا برٹش جرنل آف سائکائٹری‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق حاملہ خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ حمل کے دوران حافظہ اور ذہن متاثر ہوتا ہے اس لیے وہ جب کچھ بھولنے لگتی ہیں تو اس کی وجہ حمل قرار دے دیتی ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ کیونکہ حمل اور زچگی کے مسائل ماں بننے والی خواتین کے دماغ پر حاوی ہوتے ہیں اس لیے دوسرے امور کی اہمیت کم ہوتی جاتی ہے۔

یہ تحقیق آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی ٹیم نے کی۔ چار سال تک جاری رہنے والے اس تحقیق میں ایک ہزار اکتالیس خواتین کا جائزہ لیا گیا۔ اس عرصے میں تقریباً پچاس فیصد خواتین حاملہ ہوئیں لیکن ان میں سے کسی کاحافظہ متاثر نہیں ہوا۔

تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کرنے والی پروفیسر کِرسٹنسن کے مطابق اس تحقیق کے نتائج سے پرانے خیالات اور گھسے پٹے تاثرات پر سوالات اٹھتے ہیں۔

برطانیہ کے ’رائل کالج آف مڈوائوز‘ کی کیتھی وارِک کا کہنا ہے کہ یہ اہم پیش رفت ہے اور اس سے یہ خیال ختم ہو جانا چاہیے کہ حمل کے دوران اس طرح کی حالت لازمی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر انسان تھکاوٹ کی وجہ سے چیزیں بھولنے لگاتا ہے اور یہ مرد اور خواتین دونوں میں عام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ دوران حمل خواتن معمول سے زیادہ تھک سکتی ہیں اسی لیے وہ بھولنے بھی لگ سکتی ہیں۔