ہارڈن کولائیڈر ایک سال کے لیے بند ہوگا
مشین کو 2011 میں ایک سال کے لیے بند کیا جائے گا۔ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پرنصب لارج ہارڈن کولائیڈر مشین کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’بگ بینگ‘ کے فوراً بعد کے لمحات پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی اس مشین کو بناتے ہوئے جو غلطیاں ہوئی تھیں انہیں صحیح کرنے کے لیے کولائیڈر کو ایک سال کے لیے بند کیا جائے گا۔
ڈائریکٹر ڈاکٹر سٹیو مائرز کا کہنا ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے مشین کے پوری طرح سے کام کرنے میں دو سال کی تاخیر ہوگی۔
اس سے پہلے 2008 میں اس مشین میں نقص کی وجہ سے مشین کو چودہ مہینوں کے لیے روک دیا گیا تھا۔ اب اس مشین کو 2011 میں بند کیا جائے گا۔
سرن‘ کے زیر اہتمام کیے جانے والے اس تجربے کے دوران انجینئرز ذرات کی ایک شعاع کو ستائیس کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ نما مشین سے گزارنے کی کوشش کریں گے۔
پانچ ارب پاؤنڈ کی لاگت سے تیار ہونے والی اس مشین میں ذرات کو دہشت ناک طاقت سے آپس میں ٹکرایا جائے گا تاکہ کائنات کی ابتدا پر ہونے والے دھماکے اور اس کے اثرات کی علامتوں کو نئی طبیعات پر آشکار کیا جا سکے۔
تجربے کے لیے سرنگ میں ایک ہزار سلنڈر کی شکل کے مقناطیسوں کو ساتھ ساتھ رکھا گیا ہے۔ ان ہی مقناطیسی سلنڈروں سے پروٹون ذرات کی ایک لکیر پیدا ہو گی جو ستائیس کلو میٹر تک دائرے کی شکل میں بنائی گئی سرنگ میں گھومے گی۔ سرنگ میں پروٹون ذرات کے ٹکرانے سے دو لکیریں پیدا ہوں گی جنہیں اس مشین کے اندر روشنی کی رفتار سے مخالف سمت میں سفر کرایا جائے گا۔ اس طرح ایک سیکنڈ میں یہ لکیریں گیارہ ہزار جست مکمل کریں گی۔ سرنگ کے اندر مقررہ جگہوں پر ذرات کی یہ لکیریں ایک دوسرے کا راستہ کاٹیں گی اور ان کے اس ٹکراؤ کا مشاہدہ کیا جائے گا۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس تجربے کے دوران نئے سب آئٹم سامنے آئیں گے جن سے کائنات کی ہیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی معلومات حاصل ہوں گی۔
گزشتہ ستمبر میں’کوئنچ‘ نامی اس خرابی کے نتیجے میں کولائیڈر کے انتہائی سرد مقناطیسوں میں سے قریباً سو کا درجہ حرارت سو ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ خرابی کی وجہ سے سرنگ میں موجود خلاء ختم ہوگیا اور ایک ٹن مائع ہیلیم سرنگ کے اندر پھیل گئی۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے آگ بجھانے والے عملے کو بھی طلب کرنا پڑا تھا۔
ڈاکٹر مائرز کا کہنا ہے کہ زیادہ وسائل، انسانی وسائل اور معیاری کنٹرول کی مدد سے اس غلطی سے بچا جا سکتا تھا لیکن ’میرے لیے یہ سوچنا مشکل ہے کہ یہ ڈیزائن کی غلطی ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ اس تجربے کے ذریعے ٹیکنالوجی کو اس کی حدود سے آگے لے جایا جارہا ہے لیکن اس تجربے کے دوران جو بے مثال کامیابیاں ہوئی ہیں ان کا ذکر نہیں ہوتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایل ایچ سی جیسی مشین ایک ہی بنتی ہے اور ایک بار ہی بنتی ہے۔
’سرن‘ کے زیر اہتمام کیئے جانے والے اس تجربے کے دوران انجینیئر ذرات کی ایک شعاع کو ستائیس کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ نما مشین سے گزارنے کی کوشش کریں گے۔ پانچ ارب پاؤنڈ کی لاگت سے تیار ہونے والی اس مشین میں ذرات کو دہشت ناک طاقت سے آپس میں ٹکرایا جائے گا تاکہ کائنات کی ابتدا پر ہونے والے دھماکے اور اس کے اثرات کی علامتوں کو نئی طبیعات پر آشکار کیا جا سکے۔





















