میگرین کے لیے بوٹوکس کی اجازت

برطانیہ کے ادویات کے ریگولیٹر نے شدید سر درد یا میگرین سے بچاؤ کے لیے بوٹوکس کی منظوری دی ہے۔
یہ منظوری تیرہ سو مریضوں کے ٹیسٹ کے بعد دی گئی ہے جس میں یہ ثابت ہوا ہے کہ بوٹوکس سے سر درد میں کمی واقع ہوئی۔
تاہم میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ صرف وہ لوگ جن کو ایک ماہ میں پندرہ روز سر درد ہوتی ہے وہ ہی بوٹوکس کو بطور علاج کرانے کے حق دار ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں سات لاکھ افراد میگرین کے مرض میں مبتلا ہیں۔
واضح رہے کہ بوٹوکس عام طور پر چہرے پر جھریوں کو ختم کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ بوٹوکس کیسے سر درد کم کرنے میں مددگار ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ بوٹوکس، جو کہ پٹھوں کو آرام دیتا ہے، دماغ سے درد کے سگنلوں کو روکتا ہے۔
کلینک میں کیے گئے ٹیسٹ میں مریضوں کو بارہ ہفتوں میں بوٹوکس کے پانچ انجیکشن سر اور گردن کے خاص حصوں میں دیے گئے۔
چوبیس ہفتوں کے بعد جن مریضوں کو بوٹوکس کے انجیکشن دیے گئے تھے ان کے سر درد کی شکایت میں کمی آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور ایک سال بعد بوٹوکس دیے گئے مریضوں میں سر درد کی شکایت میں پچاس فیصد کمیں واقع ہوئی۔
اس ٹیسٹ کے نتائج اس سال مئی میں ’ہیڈ ایک‘ نامی جریدے میں شائع کیے گئے۔
میگرین ایکشن کے ڈائریکٹر لی ٹومکنز نے زور دیا ہے کہ یہ میگرین یا سر درد کا علاج نہیں ہے لیکن اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ اس مرض میں مبتلا افراد کو آرام ضرور مل سکتا ہے۔
’ہم نے ان ٹیسٹ کا بغور جائزہ لیا ہے اور جو شواہد ملے ہیں وہ کافی اطمینان بخش ہیں۔ یہ لوگ اپنی آدھی زندگی تکلیف میں گزار دیتے ہیں۔‘





















