ملیریا سے بچاؤ، فنڈز میں ساٹھ فیصد کمی

سال دو ہزار آٹھ تک ملیریا سے ہر سال دس لاکھ لوگ ہلاک ہوتے تھے
،تصویر کا کیپشنسال دو ہزار آٹھ تک ملیریا سے ہر سال دس لاکھ لوگ ہلاک ہوتے تھے

افریقی اور برطانوی ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ملیریا کے مرض پر قابو پانے کے لیے فنڈز میں ساٹھ فیصد کمی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے تیرانوے ممالک جہاں ملیریا عام ہے ان میں سے اکیس ممالک کو ملیریا سے بچاؤ کے موثر اقدامات کے لیے مطلوبہ رقم دستیاب تھی۔

ماہرین کی یہ تحقیق لینسٹ میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق افریقی ممالک میں ملیریا سے بچاؤ کے لیے فنڈز میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے علاوہ اب بھی اربوں ڈالرز کی ضرورت ہے۔

ملیریا کے مرض کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم’ رول بیک ملیریا‘ کا کہنا ہے کہ رواں سال چار اعشاریہ نو ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر بوب سنو کا کہنا ہے کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سال دو ہزار سات سے ملیریا سے بچاؤ کے لیے بین الاقوامی فنڈنگ میں ایک سو چھیاسٹھ فیصد اضافے کے بعد اب یہ سات سو تیس ملین ڈالر سے ایک اعشاریہ نو چار ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ ملیریا سے بچاؤ کے لیے فنڈز کے وعدوں میں کسی کمی کی وجہ سے ان ممالک میں ملیریا کا مرض دوبارہ سے حملہ کر دے گا جو دو ہزار دو سے ملنے والے فنڈز کی وجہ سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

’ ان ممالک کو مستقل طور پر سرمایہ مہیا کرنا ضروری ہیں ورنہ دو ہزار دو سے اب تک مہیا کیے گئے نو اعشاریہ نو ارب ڈالر ضائع ہو جائیں گے۔‘

پروفیسر بوب سنو کا کہنا ہے کہ اکیس افریقی ممالک میں سے بارہ کو امدادی اداروں سے وافر فنڈز مل رہے ہیں لیکن پچاس دیگر ممالک کو بین الاقوامی برادری سے مطلوبہ فنڈز نہیں ملے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چین اور بھارت جیسے ممالک جن کے اپنے خلائی پروگرام ہیں کو چاہیے کہ وہ فنڈز حاصل کرنے کی بجائے دوسرے ممالک کی مالی مدد کریں۔