ویکی لیکس کیا ہے؟

فائل فوٹو، ویکی لیکس
    • مصنف, جوناتھن فیلڈز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات جاری کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کے واقعات اور انٹیلیجنس رپورٹس پر مبنی خفیہ معلومات منظر عام پر لانے کی وجہ سے ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

<link type="page"><caption> عراق پر جاری ہونے والی چار لاکھ خفیہ دستاویزات</caption><url href="http://warlogs.wikileaks.org/" platform="highweb"/></link> اور اسی سال جولائی میں افغانستان پر ستر ہزار خفیہ دستاویزات شائع کرنے کے بعد اس نے صحافتی اور حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

اس ویب سائٹ کی جانب سے اپریل دو ہزار دس میں <link type="page"><caption> ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/04/100406_iraq_video_civilians.shtml" platform="highweb"/></link> جس میں دکھایا گیا تھا کہ دو ہزار سات میں عراقی دارالحکومت بغداد میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے دو صحافیوں سمیت بارہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔

اکتوبر دو ہزار نو میں ان لوگوں کے نام اور پتے کی فہرست جاری کی تھی جن کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ ان کا تعلق برٹش نیشنل پارٹی سے ہے۔ پی این پی نے فہرست کو جعلسازی قرار دیا تھا۔

دو ہزار آٹھ میں امریکی انتخابات کے دوران اس نے ایک میل بکس کے خاکے جاری کیے تھے جن میں اس وقت کی نائب صدر کی امیدوار سارہ پالن کی تصاویر اورایڈریس بک کے متعلق معلومات تھیں۔

اس کے علاوہ سائٹ پر جو متنازعہ دستاویزات جاری کی گئی تھیں ان میں کیمپ ڈیلٹا کے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کی ایک کاپی تھی جس میں گوانتاناموبے میں نافذ پابندیوں کا تفصیل سے ذکر موجود تھا۔

جب یہ پہلی دسمبر دو ہزار چھ میں انٹرنیٹ پر ظاہر ہوئی تو اس نے ایک تنازعے کو جنم دیا جو اب تک موجود ہے۔

اس میں کچھ اسے تحقیقاتی صحافت کا مستقبل قرار دیتے ہیں تو کچھ اسے ایک خطرہ کہتے ہیں۔

مارچ دو ہزار دس کے وسط میں ویکی لیکس کے ڈائریکٹر فولین آسنج نے امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی منشا سے ایک دستاویز جاری کی تھی جس کے بعد وکی لیکس کو ’امریکی فوج کے لیے خطرہ‘ قرار دیا گیا تھا۔

امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’ وکی لیکس پر فوجی مواد کی غیر قانونی اشاعت اور وزارت دفاع کی حساس معلومات جاری کرنے سے غیر ملکی خفیہ سروسز کو ایسی معلومات تک رسائی ملتی ہے جو ان کو استعمال کرتے ہوئے امریکی فوج اور وزارت دفاع کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘

کوئی بھی گمنام شخص ویب سائٹ کو معلومات بھیج سکتا ہے لیکن ایک ٹیم ان کا جائزہ لیتی ہے۔ اس ٹیم میں رضاکارانہ طور پر مین سٹریم کا پریس، صحافی اور وکی لیکس کا عملہ شامل ہوتا ہے اور یہ طے کرتے ہیں کہ کیا شائع کیا جانا چاہیے۔

فروری میں ویب سائٹ کے ڈائریکٹر آسانج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ اعلیٰ درجے کے مبہم انداز اور قانونی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔

سائٹ کا کہنا ہے کہ وہ خفیہ، سینسرڈ یا سیاست، سفارتی اور اخلاقی اہمیت کے متعلق ممنوعہ مواد قبول کرتے ہیں لیکن افوہوں، رائے اور دوسری ایسی معلومات قبول نہیں کرتے جو پہلے ہی منظر عام پر آ چکی ہوں۔

اس ویب سائٹ کو سن شائن نامی تنظیم چلاتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، عام شہری، تحقیقاتی صحافت کرنے والی صحافی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین ان کو مالی وسائل مہیا کرتے ہیں۔

جب سے یہ ویب سائٹ انٹرنیٹ پر سامنے آئی ہے اس وقت اس کو ختم کرنے یا آف لائن کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے اسے متعدد قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔

مثال کے طور پر دو ہزار آٹھ میں ویب سائٹ کو بند کرنے کے متعلق ایک سوئس بینک جولیس بیور نے ایک مقدمہ جیتا تھا۔ ویب سائٹ پر اس بینک کی غیر ملکی سرگرمیوں کے بارے میں دستاویزات جاری کی گئی تھیں۔

تاہم سائٹ کے کئی چہرے ہیں اور یہ دنیا کے مختلف ممالک سے چلائی جا رہی ہے۔

وکی لیکس کا دعویٰ ہے کہ جب سے یہ قائم ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اب تک یہ ایک سو قانونی حملوں کا مقابلہ کر چکی ہے۔

یہ ویب سائٹ بنیادی طور پر سویڈن کے ایک انٹرنیٹ مہیا کرنے والے ادارے ’پی ایس کیو‘ کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔ یہ ادارہ فائلز کے تبادلے یا فائل شیئرنگ کی ویب سائٹ پائریٹ بے کی وجہ سے مشہور ہے۔

آسانچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ویب سائٹ نے بہت ترقی کی ہے اور اس کو بہت زیادہ مقدار میں مواد وصول ہوا ہے۔

رواں سال امریکی اخبار نیویارک ٹائمز، دی گارڈین اور جرمن جریدے دے سپیگل کے ساتھ شراکت داری کے ساتھ افغان جنگ سے متعلق معلومات جاری کرنا اس کی ایک نئی حکمت عملی تھی۔