سرکاری ویب سائٹس پھر سے کام پہ

کمپیوٹر
،تصویر کا کیپشن’نجی صنعتوں میں سائبر سکیورٹی کے حوالے سے شعور بیدار ہو رہا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگ اپنی ویب سائیٹس کو محفوظ بنانے کےلیے ضروری قدم اٹھا رہے ہیں‘

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان چھتیس سے زائد سرکاری ویب سائٹس نے پھر سے کام کرنا شروع کر دیا ہے جنھیں گزشتہ ہفتے انڈین سائبر آرمی نامی بھارتی ہیکرز نے ہیک کیا تھا۔

ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر انعام غنی نے بی بی سی نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے انڈین سائبر آرمی نامی بھارتی ہیکرز نے ایک سرور پر حملہ کیا تھا اور چھتیس سے زیادہ سرکاری ویب سائیٹس کو ہیک کر لیا تھا۔

نامہ نگار حفیظ چاچڑ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھاتی ہیکرز نے سرکاری ویب سائیٹس ہیک کرنے کے بعد ایک پیغام چھوڑا تھا کہ وہ اس نے زیادہ بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انعام غنی کے مطابق بھارتی ہیکرز کے حملے کے بعد نیشنل ریسپانس سائبر کرائم سیل یعنیٰ این آر تھری سی نے اہم اقدام کیے، سرکاری ویب سائیٹس کے سیکیورٹی مزید بڑھا دی اور دوبارہ ہیکنگ کے حملے سے روکنے کےلیے ضروری اقدامات کیےگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پیر کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے پولیس کی مدد سے پنڈی گھیپ سے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کے الزام میں ایک شخص محمد شہباز عرف عادل کو گرفتار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتہ ممبئی حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر انڈین سائبر آرمی نامی بھارتی ہیکزر نے پاکستان کی چھتیس سے زیادہ سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کیا تھا جن میں وزارتِ خارجہ، پاکستان نیوی، وزارتِ خزانہ، قومی احتساب بیورو، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور وزیرِ اعلیٰ سندھ کی ویب سائٹس شامل ہیں۔

دوسری طرف اس قسم کے سائبر حملوں کی روک تھام کےلیے آئی ٹی کی ایک نجی کمپنی ٹرانچولاز لمیٹیڈ نے ایک سائبر کرائسز سیل قائم کیا ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے اور بغیر کسی فیس کے خدمات انجام دیتا ہے۔

ٹرانچولاز کے سربراہ زبیر خان نے سائبر کرائسز سیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ہیکرز کے حملے کے بعد ان کی کمپنی نے ایک سیل قائم کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ان کی کمپنی نے حکومت سے رجوع کیا ہے اور حکومت کی مدد اس سلسلے میں بہت ہی ضروری ہے۔

پاکستان میں سائبر سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ نجی صنعتوں میں سائبر سکیورٹی کے حوالے سے شعور بیدار ہو رہا ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگ اپنی ویب سائیٹس کو محفوظ بنانے کےلیے ضروری قدم اٹھا رہے ہیں۔