’نئی دوا سے ایچ آئی وی کا پھیلاؤ محدود‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایچ آئی وی سے متاثرہ مریض بیرونی خلیے کی تولید کو روکنے کی دوا کا استعمال کرے تو اس طرح اس میں اپنے جنسی ساتھی کو ایچ آئی وی سے متاثر کرنے کا خطرہ چھیانوے فیصد کم ہوجاتا ہے۔
امریکہ کے قومی ادارہ برائے صحت کی جانب سے کرائی گئی اِس عالمی تحقیق میں 1,763 جوڑوں کا مشاہدہ کیا گیا جن میں سے صرف ایک کا ساتھی ایچ آئی وی سے متاثر ہوا۔
اس تحقیق کے ذریعے مطلوبہ نتائج ملنے کی صورت میں اسے اپنے وقت سے چار سال پہلے ہی ختم کردیا گیا۔
عالمی ادارہ برائے صحت نے ان نتائج کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ تحقیق افریقہ، ایشیاء اور امریکہ کے تیرہ مختلف مقامات پرسنہ دوہزار پانچ میں شروع کی گئی تھی۔
ایچ آئی وی کے مریضوں کو دو علٰیحدہ دھڑوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک دھڑے کےمریضوں کو فوری طور پر بیرونی خلیے کی تولید کو روکنے کی دوا کا استعمال کرایا گیا تھا۔
دوسرے دھڑے کے مریضوں کو دوا کا استعمال اس وقت شروع کرایا گیا تھا جب ان کے خون کے سفید خلیوں میں کمی ہونا شروع ہوئی تھی۔
جنہیں فوری طور سے دوا کا استعمال شروع کرایا گیا تھا ان میں صرف ایک جوڑا ایسا تھا جس کے متاثرہ ساتھی نے ایچ آئی وی وائرس اپنے صحتمند ساتھی کو منتقل کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے ایچ آئی وی کے پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا ’ اور اس طرح اس بیماری سے محفوظ رہنے میں انقلاب آئےگا۔ اس کے ذریعے ایچ آئی وی کے علاج اور احتیاط کی نئی ترجیحات سامنے آئیں گی۔‘
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی وائرس کی اسّی فیصد منتقلی جنسی روابط سے ہوتی ہے۔ ادارے کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چن نے بھی تحقیق کے نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ان کے بقول عالمی ادارۂ صحت جولائی میں ان ایچ آئی وی مریضوں کے لیے نئے رہنماء اصول جاری کررہا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے جنسی ساتھی کو اِس مرض سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور نئی تحقیق ان رہنماء اصولوں کو مزید مستحکم کرے گی۔
بیرونی خلیے کی تولید کو روکنے جراثیم کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی اہمیت پر پہلے بھی مشاہداتی تحقیق کے بعد قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں لیکن اب تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ اس کو تجربات کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے۔
ایک امدادی تنظیم کے رکن کیتھ الکرن کا کہنا ہے کہ ہمیں ایچ آئی وی کے علاج کے لیے نئے عزم کی ضرورت ہے اور اس بات کی ضرورت ہے کہ تحقیق کے ذریعے ملکی سطح پر کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔






















