کوہِ ہمالیہ کی بلندی کی دوبارہ پیمائش

نیپال کی حکومت نے دنیا کے سب سے بلند پہاڑ، کوہِ ہمالیہ یا ماؤنٹ ایورسٹ کی درست اونچائی معلوم کرنے کے لیے نئے سروے کا حکم دیا ہے۔

حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نئے سروے کا مقصد دنیا کے سب سے بلند پہاڑ کی درست پیمائش کے بارے میں ابہام دور کرنا ہے۔

اس وقت سرکاری طور سے کوہِ ہمالیہ کی اونچائی آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر یا انتیس ہزار انتیس فٹ ہے۔

تاہم چین اور نیپال کے درمیان ایک عرصہ سے اس کی اونچائی کے بارے میں اختلاف ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ کوہِ ہمالیہ کی اونچائی کی پیمائش اس کی چٹانوں تک ہی کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب نیپال کا کہنا ہے کہ اس کی اونچائی کی پیمائش اس پر جمی برف سمیت کی جانی چاہیے جو تقریباً چار میٹر بلند ہے۔

دنیا کا بلند ترین پہاڑ دونوں ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔

گزشتہ سال فریقین میں اس کی بلندی آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر تسلیم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا۔

تاہم نیپال کی حکومت کے ترجمان گوپال گِیری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر بات چیت کے دوران چینی حکام اکثر کوہِ ہمالیہ کی چٹانوں تک پیمائش کا ذکر کرتے رہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے اس ابہام کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ پیمائش کا آغاز کیا ہے۔ اب ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور وسائل بھی اور ہم خود ہی اس کی پیمائش کر سکتے ہیں۔‘

یہ پہلی بار ہے کہ نیپال کی حکومت اس پہاڑ کی پیمائش کررہی ہے۔

ان کے بقول گلوبل پوزیشننگ سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے پیمائش معلوم کرنے کے لیے تین مختلف مقامات پر سٹیشن قائم کیے جائیں گے جبکہ اس کی پیمائش معلوم کرنے میں دو سال لگیں گے۔

اس پہاڑ کی پہلی مرتبہ پیمائش سنہ اٹھارہ سو چھپن میں کی گئی تھی۔ موجودہ تسلیم شدہ آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس میٹر بلندی کی پیمائش پہلی بار سنہ انیس سو پچپن میں بھارتی سروے میں کی گئی تھی۔

تاہم ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کوہِ ہمالیہ کی بلندی کے بارے میں دونوں ممالک کی جانب سے لگائے گئے تخمینے ہو سکتا ہے غلط ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ براعظم میں زمین کی پلیٹوں کے کھسکنے کی وجہ سے بھارت آہستہ آہستہ چین اور نیپال کے اندر دھنس رہا ہے جس کے باعث کوہِ ہمالیہ کی بلندی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

مئی انیس سو ننانوے میں ایک امریکی ٹیم نے جی پی ایس ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے کوہِ ہمالیہ کی بلندی آٹھ ہزار آٹھ سو پچاس میٹر ریکارڈ کی تھی جو امریکہ کی نیشنل جیوگرافک سوسائٹی بھی تسلیم کرتی ہے لیکن نیپال نے اِسے سرکاری طور سے تسلیم نہیں کیا ہے۔