جونو سیارہ مشتری کی جانب روانہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکی خلائی ادارے ناسا نے سیارہ مشتری کی جانب ایک ارب دس کروڈ ڈالر مالیت کا ایک ایسا خلائی مشن روانہ کیا ہے جس پر کوئی انسان سوار نہیں۔
جونو نامی یہ خلائی جہاز مریخ کے پاس سے گزرتا ہوا سنہ 2016 میں مشتری کے مدار میں داخل ہوگا۔
یہ شمسی توانائی سے چلنے والا پہلا خلائی مشن ہے جسے سورج سے اتنا دور بھیجا گیا ہے۔
اس خلائی جہاز کو اٹلس فائیو راکٹ کی مدد سے فلوریڈا کے کیپ کنیورل مرکز سے روانہ کیا گیا ہے اور اس کا مشن نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے کی پیدائش اور ارتقاء پر تحقیق کرنا ہے۔
خلائی جہاز جونو کی روانگی کے موقع پر ناسا کے ایڈمنسٹریٹر چارلس بولڈن کا کہنا تھا کہ ’آج جونو خلائی جہاز کی روانگی کے ساتھ ہم نے ایک اور نئی سرحد کی جانب سفر شروع کر دیا ہے‘۔
اس مشن کے دوران سائنسدان مشتری کے ماحول میں وافر پانی کی موجودگی کا پتہ چلانے کی کوشش بھی کریں گے جو اس بات کی نشانی ہے کہ جب مشتری بنا تو نظامِ شمسی کے اس علاقے میں کتنی آکسیجن موجود تھی۔
سیارہ مشتری کے پاس جہاں سورج کی روشنی کی شدت زمین کے مقابلے میں 1/25 ہے، خلائی مشن کو عموماً توانائی کے لیے پلوٹونیم بیٹریوں پر انحصار کرنا چاہیے لیکن جونو پر تین ایسے پر نصب ہیں جن پر اٹھارہ ہزار شمسی سیل لگائے گئے ہیں۔
اس مشن کے چیف سائنسدان سکاٹ بولٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک شمسی پینل والا مشن ہونے کے ناتے ہمیں ان پینلز کا رخ سورج کی جانب رکھنا ہوگا اور ہم کبھی بھی مشتری کے سائے میں نہیں جائیں گے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جونو یہ بھی پتہ چلانے کی کوشش کرے گا کہ مشتری کی مرکزی تہہ چٹانی ہے یا گیسوں سے بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مائع دھاتی ہائیڈروجن کے اس سمندر کو بھی تلاش کرے گا جسے سیارے کے طاقتور مقناطیسی میدان کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔
جونو ناسا کا دوسرا نیو فرنٹیئر کلاس مشن ہے۔ نیو ہورائزنز نامی پہلا مشن سنہ 2006 میں پلوٹو کی جانب روانہ کیا گیا تھا اور وہ سنہ 2015 میں اپنی منزلِ مقصود پر پہنچے گا۔



















