کینسر کے ایک کروڑ بیس لاکھ کیسز

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ورلڈ کینسر رِسرچ فنڈ نامی ادارے کے مطابق پچھلے دس سال میں دنیا بھر میں کینسر کے تازہ کیسز کی تعداد بیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور ہر سال اس بیماری سے متاثر ہونے والوں کی تعداد اب ایک کروڑ بیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
ادارے نے مزید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بیس فیصد تازہ کیسز میں صرف ایک چوتھائی ایسے ہیں جن کو ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔
واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار اقوامِ متحدہ کی جانب سے کینسر سمیت دیگر بیماریوں پر کیے جانے والے اجلاس سے قبل پیش کیے گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق اٹھائیس لاکھ سالانہ کیسز کا کسی نا کسی طرح تعلق خوراک، ورزش یا موٹاپے سے ہے۔
ادارے نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ آنے والی دہائی میں یہ تعداد اٹھائیس لاکھ سے مزید بڑھ جائے گی۔
ورلڈ کینسر رِسرچ فنڈ کے مشیر برائے طب پروفیسر مارٹن وائیسمین نے بی بی سی کو بتایا ’سچ تو یہ ہے کہ کیسز کی تعداد بڑھنے کی وجہ ہمارے معاشروں میں بچوں کی تعداد کم اور بڑوں کی زیادہ ہونا ہے (پاپولیشن ایجنگ) لیکن ایک اور وجہ رہن سہن کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں بھی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’جیسے جیسے ممالک زیادہ لوگوں کو شہریت دیتے جا رہے ہیں ویسے ویسے وہ بیماریوں کو بھی اپنا رہے ہیں جن سے ہم پہلے ہی واقف ہیں۔ ان بیماریوں میں صرف کینسر ہی نہیں بلکہ دل کی بیماری، ذيابيطس، موٹاپا اور پيپھڑوں کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا ’بیشتر لوگوں کو یہ نہیں معلوم کہ شراب پینے اور موٹاپے سے کینسر کے ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ ٹیلی وژن پر آنے والے اشتہارات اور کھانے پینے کی قیمتوں سے لے کر ہمارا معاشرہ کچھ اس طرح کام کر رہا ہے کہ لوگوں کا صحت افزاء عادتوں سے دل موڑا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















