’خلائی مہم جُو متوجہ ہوں‘

خلا باز

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنناسا نے ان مقامات پر لے جانے کا وعدہ کیا ہے جہاں کوئی حدیں نہیں ہوتیں

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلاباز بھرتی کرنے کے لیے اپنی تاریخ کی سب سے مہم شروع کر دی ہے۔

ناسا نے اپنے کئی سینیر خلابازوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد آن لائن پر آٹھ سے بارہ نئے خلاباز بھرتی کرنے کے لیے اشتہار دیا ہے۔ ناسا کے خلائی شٹل پروگرام کے خاتمے کے بعد اس کے کئی خلاباز ریٹائر ہو گئے تھے۔

نئے بھرتی ہونے والے خلابازوں کے لیے سالانہ ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر تک تنخواہ مختص کی گئی ہے۔ لیکن اس بات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ کیا وہ واقعی خلا میں جا سکیں گے۔ اشتہار کے مطابق روسی زبان بولنے والوں کو انٹرویو میں فائدہ پہنچے گا۔

اشتہار میں فخریہ کہا گیا ہے کہ ’ناسا ان مقامات پر جائے گی جن کی کوئی حدیں نہیں۔‘

تاہم یہ واضح نہیں کہ خلاباز بھرتی ہونے والے ایسے مقامات پر جائیں گے کیسے۔ ناسا کی خلائی گاڑیاں اس سال پہلے ہی فارغ کر دی گئی ہیں۔ کسی سیارچے پر یا مریخ پر انسان بھیجنے کا کوئی بھی مشن ابھی کم سے کم دس سال دور ہے۔

فی الحال اگر کوئی خلا میں گیا بھی تو وہ روسی خلائی راکٹ سویوز پر ہی جائے گا۔ کئی دہائیوں تک دنیا میں امریکہ کا خلائی پروگرام دنیا بھر میں اس کی برتری کی علات تھا لیکن اب اسے اپنا جواز ثابت کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ناسا نے اس اشتہار کے ذریعے نہ صرف نیا خون اپنی طرف متوجہ کیا ہے بلکہ قوم میں نیا جذبہ بھی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

ناسا نے امریکیوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ ناسا کے انسانی خلائی مشن زندہ اور قائم ہیں۔