کہکشاؤں کا ایک جھرمٹ دریافت

،تصویر کا ذریعہNASA
ماہر فلکیات نے زمین سے سات ارب نوری سال کے فاصلے پر پہلی بار کہکشاوں کا ایک جھرمٹ دریافت کیا ہے۔
کہکشاوں کے جھرمٹ کی یہ دریافت لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں نصب ایک طاقتور خلائی دوربین کی مدد سے کی گئی ہے۔
اس جھرمٹ کا حجم سورج سے دو ارب گنا زیادہ ہے۔
اس جھرمٹ کو ’ایل گارڈو‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا ہسپانوی زبان میں مطلب ’موٹا والا‘ ہے۔
’امیریکن ایسٹرونامیکل سوسائٹی‘ کے ایک اجلاس میں ماہرینِ فلکیات نے بتایا کہ ایل گارڈو ایک تبدیلی میں سے گزر رہا ہے اور قریبی کہکشاؤں سے ٹکرانے اور ملنے سے اس کا حجم مزید بڑھ رہا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کو امید ہے کہ ان تبدیلیوں کو جانچ کر وہ کہکشاؤں کی تخلیق اور بڑھنے کے عمل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔
دوسری جانب ’ڈارک انرجی‘ نامی ایک پراسرار قوت کائنات کی توسیع اور فلکی ڈھانچوں کو ایک دوسرے سے دور لے جانے میں مصروف ہے۔
فلکی جھرمٹ کے بڑھنے کے عمل کو سمجھنے سے ان غیر واضح فلکی قوتوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رٹگرز یونیورسٹی کے پروفیسر جیک ہیوز کا کہنا تھا کہ سات ارب نوری سال دور واقع ایل گارڈو ہمیں اس وقت کا خاکہ پیش کر رہا ہے جب کائنات کی عمر آج کے مقابلے میں نصف تھی اور اس وقت اس کا ڈھانچہ ایک مختلف رفتار سے تخلیق پا رہا تھا۔
پروفیسر ہیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ ایل گارڈو کی خصوصیات کو سمجھ کر ہم کائنات کے ڈھانچے کے ارتقاء کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
زمین سے اتنے ہی فاصلے پر دوسرے کہکشاؤں کے مقابلے میں دوگنے حجم کا ایل گارڈو جھرمٹ اپنے وجود کے درمیانے عرصے میں معلوم ہوتا ہے۔





















