ایپل کی قدر چھ سو ارب ڈالر سے زیادہ

،تصویر کا ذریعہAFP
کمپیوٹرز اور موبائل فون بنانے والی امریکی کمپنی ایپل کی قدر پہلی مرتبہ چھ سو ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
منگل کو امریکی بازارِ حصص میں ایپل کے ایک حصص کی قیمت چھ سو چوالیس ڈالر تک پہنچ گئی۔
سنہ 2012 کے آغاز سے اب تک ایپل کے حصص کی مالیت میں ساٹھ فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ انیس سو ستانوے میں امریکی سٹاک مارکیٹ میں ایپل کے حصص کی قیمت محض تین ڈالر انیس سینٹ تھی اور پندرہ سال کے عرصے میں اس میں سوا چھ سو ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
آج ایپل جس مقام پر ہے اسے وہاں پہنچانے میں کلیدی کردار کمپنی کے آنجہانی سربراہ سٹیو جابز نے ادا کیا۔
گزشتہ برس انتقال کرنے والے جابز نے اسّی کی دہائی میں اپیل کی بنیاد رکھی تھی لیکن اس دہائی کے آخر میں انہوں نے اس کمپنی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
سنہ انیس سو ستانوے میں وہ دوبارہ ایپل میں واپس آ گئے تھے اور پھر انہوں نے ایپل کی مقبولِ عام مصنوعات آئی فون اور آئی پیڈ متعارف کروائیں۔
جنوری دو ہزار بارہ میں ایپل نے 2011 کی آخری سہ ماہی کے لیے ریکارڈ منافع ظاہر کیا تھا جبکہ دو ہزار گیارہ کے اختتام پر ہی ایپل نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کے پاس ستانوے ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی نقد رقم موجود ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مارچ دو ہزار بارہ میں ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے بتایا تھا کہ ایپل اس رقم کو اپنے شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائیگی اور اپنے کچھ حصص واپس خریدنے کے لیے استعمال کرے گا۔
اس کام کے لیے ایپل آنے والے تین سالوں میں پینتالیس ارب ڈالر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔





















