انڈیا پاکستان سمیت چار ملکوں کی سیریز، کیا رمیز راجہ کا خواب سچ ہو پائے گا؟

رمیز راجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ آئی سی سی کے آئندہ اجلاس میں چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی تجویز پیش کرنے والے ہیں، جس میں پاکستان، انڈیا، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں شامل ہوں اور یہ سیریز سالانہ بنیاد پر منعقد کی جائے۔

رمیز راجہ جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں ان کے اقدامات اور بیانات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ پاکستان کی کرکٹ کو بین الاقوامی سطح پر بلند مقام پر دیکھنے کے لیے غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہیں۔

چار ملکی سیریز کا آئیڈیا کیا ہے؟

رمیز راجہ نے اس مجوزہ چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی جو تفصیلات بیان کی ہیں ان کے مطابق یہ سیریز ہر سال منعقد ہو۔

اسے قابل عمل بنانے کے لیے وہ ایک کمپنی رجسٹر کرنے کی بات کرتے ہیں جو آئی سی سی کے ماتحت کام کرے جس کا اپنا چیف ایگزیکٹیو ہو اور اس سیریز کی آمدنی تمام رکن ملکوں میں تقسیم ہو۔

اس حوالے سے آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) جیف الارڈائس نے جمعرات کو میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ آئی سی سی کی رمیز راجہ سے (اس حوالے سے) کسی بھی آئیڈیا پر فی الحال کوئی خط و کتابت یا بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک ہمیں اس حوالے سے مزید تفصیل موصول نہیں ہو جاتی کہ رمیز راجہ اس معاملے پر کیا سوچ رہے ہیں، تب تک تبصرہ کرنا مشکل ہے۔

رمیز راجہ کو اس چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سب سے پُرکشش بات پاکستان اور انڈیا کی موجودگی نظر آتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایشیز کی دو روایتی ٹیموں کے علاوہ روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کے ہونے سے یہ سیریز شائقین کی غیر معمولی دلچسپی حاصل کرے گی۔

رمیز راجہ نے اس سیریز کا خیال چند روز قبل اپنی ٹویٹ میں بھی پیش کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کی دو طرفہ سیریز کے مقابلے میں تین چار ملکوں کے درمیان ہونے والی سیریز زیادہ دلچسپ ثابت ہوسکتی ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

کیا انڈیا یہ تجویز مانے گا؟

ایسی کوئی بھی تجویز جس میں پاکستان انڈیا کرکٹ کا ذکر ہو، ہمیشہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن جایا کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے کرکٹ شائقین ان دونوں ملکوں کی کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثال حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا میچ ہے جسے دنیا بھر میں لوگوں کی ریکارڈ تعداد نے دیکھا۔

بدقسمتی سے دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات دو طرفہ کرکٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور شائقین صرف آئی سی سی کے ایونٹس میں ان دونوں ٹیموں کو مد مقابل ہوتا دیکھنے پر مجبور ہیں۔

رمیز راجہ کی چار ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کی اس تجویز میں سب سے حیران کن پہلو بھی یہی ہے کہ یہ سیریز کس طرح ممکن ہو گی؟

یہ بھی پڑھیے

یہ بات یقیناً رمیز راجہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انڈیا کو شامل کر کے کسی بھی سیریز کا انعقاد موجودہ حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔

انڈیا کے سینیئر سپورٹس صحافی پردیپ میگزین بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سیریز فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتی ہے۔

انھیں نہیں لگتا کہ انڈیا کی حکومت اس پر رضامندی ظاہر کرے گی کیونکہ انڈیا میں پاکستان کے خلاف جذبات پائے جاتے ہیں۔

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے کرکٹ بورڈز کی باگ ڈور دو کرکٹرز رمیز راجہ اور سورو گنگولی کے پاس ہے اور پاکستان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر عمران خان کی بھی حکومت ہے لیکن اس کے باوجود فوری طور پر کرکٹ روابط کا شروع ہونا نظر نہیں آتا۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ انڈین وزیرداخلہ امت شاہ کے بیٹے ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے طاقتور سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ خود جے شاہ کی بی سی سی آئی میں پوزیشن اہم ہے۔

پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ روابط اچانک ہی بحال ہوئے۔

’ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہو جائے لیکن یہ اسی وقت ہو گا جب دونوں حکومتیں اس بارے میں متفق ہوں گی کیونکہ یہ کرکٹ بورڈز سے آگے کا معاملہ ہے۔‘

گنگولی کی تجویز میں پاکستان شامل نہیں

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسورو گنگولی انڈین کرکٹ بورڈ کے موجودہ صدر ہیں

رمیز راجہ وہ پہلے شخص نہیں ہیں جو چار ٹیموں کی شرکت کے ساتھ ایونٹ کی تجویز کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔

دسمبر 2019 میں انڈین کرکٹ بورڈ کے صدر سورو گنگولی نے بھی چار ٹیموں کے ایک ایونٹ کا آئیڈیا پیش کیا تھا، جس میں انھوں نے انڈیا کے ساتھ انگلینڈ اور آسٹریلیا کا نام لیا تھا لیکن چوتھی ٹیم کا نام شامل نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کرکٹ کے ہیوی ویٹ ممالک کے ساتھ ایک سپر سیریز کا انعقاد 2021 سے کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پہلا ایونٹ انڈیا میں ہو۔

سورو گنگولی کی اس تجویز کو اُس وقت پذیرائی نہیں ملی تھی اور اسے بِگ تھری کے تناظر میں دیکھا گیا تھا، جس کا مقصد کرکٹ کھیلنے والے اکثر ممالک کو تنہا کرنا تھا۔

اس تجویز کی مخالفت کرنے والوں میں پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف بھی شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ بِگ تھری کی طرح یہ آئیڈیا بھی ناکامی سے دوچار ہوگا کیونکہ اس سے بڑے ممالک دوسرے رکن ممالک کو تنہا کر دینا چاہتے ہیں۔