’فیصلہ پہلے سے تیار تھا‘

- مصنف, عبد الرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کمیشن کی جانب سے اپنی معطلی کے خلاف اپیل مسترد کئے جانے کے فیصلے پر سخت مایوسی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ پہلے سے تیار تھا۔
یاد رہے کہ سلمان بٹ محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں مبینہ طور پر رقم کے عوض جان بوجھ کر نو بال کرانے کے الزام کا سامنا ہے اور آئی سی سی نے ان تینوں کو اس کیس کا فیصلہ ہونے تک عارضی طور پر معطل کررکھا ہے۔
<link type="page"><caption> ’آئی سی سی کے پاس ٹھوس ثبوت نہیں‘: آڈیو</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2010/11/101101_salman_butt_interview_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
سلمان بٹ اور محمد عامر دبئی میں آئی سی سی کی دو روزہ سماعت میں اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہونے کے بعد پیر کو وطن واپس پہنچ گئے۔
سلمان بٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی نے ان کی بات سنی لیکن بالکل اس انداز میں کہ جو کہنا ہے کہہ لو وہ فیصلہ پہلے سے کرکے آئی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ جب کوڈ آف کنڈکٹ کمیشن سے معطلی برقرار رکھنے کے فیصلے کی وجہ جاننی چاہی تو وہ بھی بتانے سے انکار کردیا گیا۔
سلمان بٹ نے کہا کہ آئی سی سی کے پاس پاکستانی کرکٹرز کے خلاف پہلے دن سے ابتک کوئی بھی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ صرف وہی ہے جو نیوز آف دی ورلڈ نے اپنی فوٹیج دکھائی ہے لیکن وہ فوٹیج کسی طور یہ بات ثابت نہیں کرتی کہ پاکستانی کرکٹرز نے مظہر مجید سے کسی معاہدے کے تحت رقم لے کر کوئی کام کیا ہو۔
سلمان بٹ سے جب ان کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اس بارے میں ان کے وکیل ہی بتاسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سلمان بٹ نے اس کیس کی پیروی کےلئے ڈاکٹرخالد رانجھا اور آفتاب گل کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔
سلمان بٹ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تینوں کرکٹرز کو تنہا چھوڑنے کے بجائے پوری قوم اس معاملے کی نزاکت کو سمجھے اور ان کاساتھ دے کیونکہ انہیں اکیلا چھوڑیا گیا تو پاکستانی کرکٹ کو جس طرح تنہا کیا جارہا ہے وہ بہت آسانی سے سب سے الگ ہوجائے گا۔
سلمان بٹ نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ان کے وکلا نے اس کیس کی مکمل سماعت کی تاریخ کے لئے درخواست کی تو اس کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔
فاسٹ بولر محمد عامر نے بھی وطن واپسی پر کہا کہ پہلے دن کی سماعت کے بعد ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ ان کی معطلی ختم ہوجائے گی لیکن جو فیصلہ آیا لگتا ایسے ہے جیسے یہ پہلے سے لکھا ہوا تھا سب سے اہم بات یہ ہے کہ پابندی نہ ہٹانے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔



