اٹلی کا جن اتارنے والا پادری

79 سالہ اطالوی پادری ونچینتسو تارابوریلی گذشتہ 27 برس سے لوگوں پر سے جن اتارنے کا کام کر رہے ہیں۔
وہ اس کام کی طرف اس وقت راغب ہوئے جب ان کے ایک ساتھی پادری کو مدد کی ضرورت پڑ گئی۔
'مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ یہ کیا کام ہے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ کیا کرنا ہے۔ میں بالکل لاعلم تھا۔'
اس کے بعد سے تارابوریلی اٹلی میں جن اتارنے والے مصروف ترین پادریوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
وہ ویٹیکن کے قریب ایک بغیر کھڑکیوں والے کمرے میں ہفتے میں تین دن یہ کام کرتے ہیں۔ اکثر اوقات انھیں دن میں 30 سے زیادہ لوگوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔
'جن اتارنے سے پہلے میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ ماہرِ نفسیات یا دماغی ڈاکٹر کے پاس جائیں اور اس کی تشخیص لا کر مجھے دکھائیں۔ میرا بہت سے ماہرینِ نفسیات سے رابطہ ہے اور وہ میرے پاس مریض بھیجتے رہتے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے کمرے میں ایک طرف ایک الماری ہر قسم کی فرشتوں کے مجسموں سے اٹی پڑی ہے۔ ایک دراز میں انھوں نے اپنے مریضوں کو دینے کے لیے ٹافیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ایک چھوٹی سی دیوار پر ایک سرکاری دستاویز آویزاں ہے جس میں انھیں جن نکالنے کی سند دی گئی ہے۔
تارابوریلی کہتے ہیں: 'میں سب سے پہلے تیاری کر کے کمرے میں جاتا ہوں۔ اگر اس شخص کی حالت ٹھیک نہیں ہے تو میں اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں اسے کہتا ہوں کہ میرے ساتھ دعا کرے۔ لیکن ان میں سے بہت سے یہاں آنے سے پہلے ہی ہلے ہوئے ہوتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAP
ان کے پاس ایک پھٹی پرانی کتاب ہے جس میں کیتھولک چرچ کی جانب سے جن اتارنے کی رسمیں درج ہیں۔ ان کی میز پر وہ صلیب پڑی ہوئی ہے جس کی مدد سے وہ جنوں کو نکال باہر کرتے ہیں۔
ان کی سب سے مشہور مریضہ ایک عورت ہے جس کا انھوں نے 13 برس تک علاج کیا۔
'ایک شیطان پرست اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ اس عورت نے انکار کر دیا۔ سو اس آدمی نے اسے کہا، تمھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اس نے ایسا جادو کیا کہ وہ عورت ہفتے میں دو بار اس کی طرف مائل ہو جاتی تھی۔
'پھر وہ میرے پاس آئے، اسی کمرے میں۔ میں نے دعا مانگنی شروع کی، اور اس پر حال کی کیفیت طاری ہو گئی۔ وہ گالیاں دینے لگی۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ اس پر سائے کا اثر ہے۔
'اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔ سو جب میں نے شیطان سے کہا، 'میں تمھیں یسوع مسیح کے نام پر حکم دیتا ہوں کہ اسے چھوڑ کر چلے جاؤ، تو اس عورت نے لوہے کی کیلوں کی قے کرنا شروع کر دی۔

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
'کیلوں کے علاوہ اس کے منھ سے بالوں کے گچھے، کنکر اور لکڑی کے ٹکڑے نکلے۔ یہ کسی اور دنیا کی کہانی لگتی ہے لیکن ہے اسی دنیا کی۔'
کیتھولک چرچ میں انسانوں پر جنوں کا سایہ ہونے کی بڑی پرانی روایت ہے۔
بعض اوقات قتل کے کیسوں کی وضاحت بھی یوں کی جاتی ہے کہ قاتل پر سایہ تھا۔
اس سال جولائی میں جب 85 سالہ فرانسیسی پادری ژاک ہیمل کو قتل کر دیا گیا تو اس کا الزام بھی جنوں پر دھرا گیا تھا۔
جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے دو جہادیوں نے فرانس کے ایک چرچ میں گھس کر پادری ہیمل کو چاقو مار کر قتل کیا تو انھوں نے مرنے سے پہلے آواز لگائی تھی، 'دفع ہو جاؤ، شیطان!' یہ بظاہر جنوں کو بھگانے کی کوشش تھی۔
اس کے بعد پوپ فرانسس نے پادری ہیمل کو سینٹ بنانے کا عمل تیز کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لیکن کیتھولک چرچ سے باہر بہت سے لوگ جنوں کے اثر کے خیال کو تسلیم نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ محض قرونِ وسطیٰ کے زمانے کی توہم پرستی ہے، اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ان پر جنوں کا سایہ ہو گیا ہے وہ دراصل کسی ذہنی یا نفسیاتی عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔
پادری تارابوریلی اسے تسلیم نہیں کرتے۔
'مذہبی لوگ یقین رکھتے ہیں کہ شیطان موجود ہے۔ آپ بائبل میں اس کے بارے میں پڑھ سکتے ہیں۔ آپ کو صرف یہ دیکھنا ہے کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے۔ حالات اس سے زیادہ کبھی بھی خراب نہیں تھے۔ یہ تشدد انسانی نہیں۔ ہولناک، جیسے دولتِ اسلامیہ۔'
تارابوریلی کا اپنا کام چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ان کے فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہتی ہے۔
تاہم نوجوان پادری اس پیشے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھا رہے اور ان کا اندھیرے کمروں میں طویل وقت گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
تارابوریلی کہتے ہیں: 'میں نے بشپ سے کہا کہ مجھے اس کام کے لیے کوئی (جانشین) نہیں مل رہا۔ بہت سے لوگ ڈرتے ہیں۔ حتیٰ کہ پادری تک ڈرتے ہیں۔ یہ بڑی مشکل زندگی ہے۔'







