خواتین کو دانستہ طور پر ایڈز کا وائرس منتقل کرنے پر سزا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اٹلی کی ایک عدالت نے دانستہ طور پر 30 خواتین کو ایچ آئی وی کا وائرس منتقل کرنے کے جرم میں ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ویلنٹینو ٹیلوٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 2006 میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد انھوں نے 53 خواتین کے ساتھ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کیے۔ ان میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔
اپنے شکار کی تلاش کے لیے ’ہارٹی سٹائل‘ نام سے وہ سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ سائٹ پر سرگرم تھے۔
جمعے کو ججز نے 33 سالہ ویلنٹینو ٹیلوٹو کو دس گھنٹے تک غور خوض کے بعد 24 سال قید کی سزا سنائی۔
وکیل دفاع نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ 'ان کا عمل ناعاقبت اندیش عمل تھا لیکن وہ دانستہ نہیں تھا۔'
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہم بستری کے وقت جب کوئی خاتون انھیں کنڈوم کے استعمال کے لیے کہتی تو وہ یا تو کنڈوم سے الرجی ہونے کی بات کہتے یا پھر یہ بہانہ بناتے کہ انھوں نے حال ہی میں ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
جب بعض خواتین میں ایچ آئی وی کی نشاندہی ہوئی تو انھوں نے ویلنٹینو ٹیلوٹو کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ ویلنٹینو نے اس بات انکار کیا۔
خیال رہے کہ ایج آئی وی ایڈز میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ویلنٹینو ٹیلوٹو کے اس عمل کے نتیجے میں چار دوسرے مرد بھی ايچ آئی وی سے متاثر ہو گئے جن میں تین مرد اور ایک بچہ شامل ہے۔ ان مردوں کو ان خواتین سے یہ وائرس منتقل ہوئے جنھیں ویلنٹینو ٹیلوٹو سے براہ راست یہ وائرس ملے تھے۔
وکیلِ استغاثہ الینا نیری نے گذشتہ ماہ کہا تھا 'موت کا بیج بونے کا ان کا یہ عمل دانستہ تھا۔'
ویلنٹینو ٹیلوٹو نے عدالت کو بتایا کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ حقیقی رشتہ بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ خیال رہے کہ ان کی والدہ بھی ایچ آئی وی سے متاثر تھیں اور جب وہ چار سال کے تھے تو ان کی موت ہو گئی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سزا کے سنائے جانے پر بعض متاثر خواتین رو پڑیں۔ استغاثہ نے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا لیکن سزا اس سے کم دی گئی۔











