امریکہ کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو خطرہ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا

Undated file image of of a display which warns about a cyber attack

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ کے مطابق امریکی کمپیوٹر نیٹ ورکس کو 'غیر ملکی' حریف کمپنیوں سے خطرہ ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے کمپیوٹر ’نیٹ ورکس‘ کو ’غیر ملکی‘ حریف کمپنیوں سے بچانے کے لیے قومی ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی حریف ٹیلی کام کمپنیوں کی خدمات استعمال کرنے سے منع کیا جن کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر میں کسی بھی کمپنی کا نام خاص طور پر نہیں لیا ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے خاص طور پر چین کی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کے حوالے سے یہ اقدام اٹھایا ہے۔

بہت سے ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین نگرانی کے لیے چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے کی مصنوعات کو استعمال کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ہواوے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا کام کسی کے لیے بھی خطرے کا باعث نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ نے اپنے آرڈر کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی حریف ٹیلی کام کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے سے منع کر دیا ہے

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کے آرڈر کا مقصد ’امریکہ کو غیر ملکی حریف کمپنیوں سے بچانا ہے جو فعال اور تیزی سے معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی اور خدمات کے مسلسل استعمال کے لیے حساس ہیں۔

بیان کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ اقدام کامرس سیکریٹری کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ’ایسے ٹرانزیکشن کو روکے جو ملک کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘

امریکہ کی وفاقی کمیونیکیشنز کمیشن کے چیئرمین اجیت پائی نے امریکی صدر کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا ہے ’یہ اقدام امریکہ کے نیٹ ورکس کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔‘

ہواوے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچینی کمپنی ہواوے کو حالیے دنوں میں کافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے

خیال رہے کہ امریکہ پہلے ہی وفاقی ایجنسیوں کو ہواوے کمپنی کی مصنوعات کے استعمال کو محدود کر چکا ہے اور اپنے اتحادیوں کو ایسا کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جبکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے نیکسٹ جینریشن کے فائیو جی موبائل نیٹ ورکس میں چینی کمپنی ہواوے گیئر کے استعمال کو روک دیا ہے۔

لیکن چینی ٹیلی کام کمپنی ہواوے نے شدت سے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

دریں اثنا ہواوے کے چیئرمین لیانگ ہو نے کہا ہے کہ وہ منگل کو لندن میں ہونے والے ایک ملاقات کے دوران ’حکومتوں کے ساتھ غیر جاسوسی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘