بدلتا سعودی عرب: عالمی سٹارز کی نئی منزل

BTS

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ سعودی عرب روایتی طور پر بین الاقوامی موسیقی کے دوروں کے لیے رکنے کی کوئی اہم جگہ نہیں ہے لیکن پھر بھی بڑے نامور موسیقار ادھر رکتے رہتے ہیں۔

گذشتہ جنوری میں ماریہ کیری وہاں رکنے والی مشہور گلوکارہ تھیں۔

اس کے بعد نکی مناج نے جدہ میں کنسرٹ کرنے کی حامی بھری لیکن بعد میں عورتوں اور ایل جی بی ٹی برادری کے حقوق کے حمایت میں وہاں جانے کا ارادہ بدل لیا۔

یہ بھی پڑھیئے

،ویڈیو کیپشنولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک میں اگلے برس سینیما کھولنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا

اور اب جنوبی کوریا کے لڑکوں کے ایک بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اکتوبر میں ریاض میں پرفارم کریں گے۔

سو سعودی عرب کیوں چاہتا ہے کہ ہائی پروفائل سٹار وہاں آ کر پرفارم کریں۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہتے ہیں کہ وہ ملک میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں

اقتصادیات

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہتے ہیں کہ وہ جدید سعودی عرب کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اپنے وژن 2030 کے منصوبے کے مطابق ملک میں معاشرتی اور اقتصادی اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کا آمدنی کے لیے کافی عرصے سے تیل پر انحصار ہے، لیکن تیل کی قیمتوں میں عدمِ استحکام سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر زیادہ دیر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے اقتصادی اصلاحات اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے کی ضرورت کے پیشِ نظر سعودی عرب دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کاروبار کے لیے تیار ہے۔

اور بی ٹی ایس جیسے فنکاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا بھی ان میں سے ایک طریقہ ہے۔

ریاض پارک مال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنریاض میں کھلنے والا ایک نیا سنیما

معاشرتی اصلاحات

ایک شعبہ جس میں سعودی عرب چاہتا ہے کہ ترقی ہو وہ اینٹرٹینمنٹ کی صنعت ہے۔

بہت سے سعودی باشندے فلمیں اور کانسرٹ دیکھنے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ ملک میں ہی پیسہ خرچ کریں نئے سنیما گھر اور شاپنگ سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں مقبول فنکاروں کو مدعو کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں رہائش پذیر 24 سالہ یاسمین نے ریڈیو 1 نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’وہ سعودی عرب اور باقی دنیا کے درمیان بین الثقافتی رابطہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’سعودی عرب میں پوری دنیا سے آ کر لوگ بسے ہوئے ہیں اس لیے ایسا کر کے وہ ہر کسی کی پسند کا خیال رکھ رہے ہیں۔‘

ان معاشرتی اصلاحات میں عورتوں کے گاڑی چلانے اور ان فٹبال میچ دیکھنے پر پابندی ختم کرنا بھی شامل ہے۔

ماریہ کیرے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنماریہ کیرے نے جنوری میں سعودی عرب میں پرفارم کیا تھا

ابھی تک وہاں کس کس نے پرفارم کیا ہے؟

دسمبر 2017 میں نیلی نے جدہ میں پرفارم کیا تھا۔ تاہم اس کنسرٹ میں صرف مردوں کو جانے کی اجازت تھی۔

فارمولا ای کنسرٹ میں جیسن ڈیرولو، اینکریک ایگلیسیاس، ڈیوڈ گیوٹا، ون ریپیبلک اور دی بلیک آئیڈ پیز نے تین دن تک پرفارم کیا تھا۔

جنوری میں ماریہ کیری نے پرفارم کیا تھا اور ان کے ساتھ شان پال اور ڈی جے ٹییسٹو بھی تھے۔

مزید پڑھیئے

اگرچہ ان کے سعودی عرب میں پرفارم کرنے پر بہت تنقید ہوئی لیکن انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ سعودی عرب میں عورتوں اور مردوں کے درمیان صنفی برابری کے کام کرنے کا یہ ایک سنہری موقع تھا۔

ان کے پبلک ریلیشنز کے نمائندے کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب میں پرفارم کرنے والی پہلی بین الاقوامی خاتون آرٹسٹ کے ماریا کیری اس ایونٹ کی اہمیت تسلیم کرتی ہیں اور وہ سب کے لیے مساوات کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتی رہیں گی۔

اور یہ صرف گلوکاروں تک ہی محدود نہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ای (ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹینمنٹ) نے بھی اپنا کراؤن جیول ایونٹ سعودی عرب میں رکھا، اگرچہ اس کی خواتین پہلوانوں کو وہاں پرفارم کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

تو پھر حقیقت کیا ہے؟

یاسمین کہتی ہیں کہ ’اب اتنی سختی نہیں جتنے پہلے ہوتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کافی کی دکانوں اور ریستورانوں میں سب ایک ہی حصے میں بیٹھتے ہیں اور اب اس طرح کی تفریق نہیں ہوتی۔

لیکن ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس بارے میں شک ہے کہ اصل میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔

تنظیم کے مطابق اگرچہ عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن انھیں پھر بھی بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکام نے ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرنے سے پہلے کئی اہم انسانی حقوق کی کارکنوں کو یہ الزام لگا کر گرفتار کر لیا تھا کہ ان کے غیر ملکی تنظیموں سے روابط ہیں۔

خواتین کو ابھی بھی بیرونِ ملک جانے، پاسپورٹ اور ہیلتھ کیئر کے حصول اور کام کرنے کے لیے بھی کسی مرد سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ شوہر، والد، بھائی یا بیٹا ہو۔

سعودی عرب میں اب عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنسعودی عرب میں اب عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت ہے

سعودی عرب کے ایل جی بی ٹی حقوق کے ریکارڈ پر بھی اسے تنقید کا سامنا ہے۔

اصل میں سعودی عرب میں جنسی رجحان یا صنفی شناخت کے متعلق کوئی تحریری قوانین نہیں ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ’جج شادی سے باہر سیکس، گے سیکس اور دوسرے غیر اخلاقی عوامل میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے افراد کو اسلامی قوانین کے تحت سزا دیتے ہیں۔‘