کشمیر کی صورتحال: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ رابطہ، کشمیر کے مسئلے پر تناؤ کم کرنے کا پیغام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے ساتھ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے پر خطے میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کی ہے۔
اپنی ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’(میں نے) اپنے دو اچھے دوستوں، انڈیا کے وزیر اعظم مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم خان سے تجارت، سٹریٹیجک شراکت داریوں اور دونوں ممالک کے لیے سب سے اہم یہ کہ کشمیر کے مسئلے پر تناؤ کم کرنے کے لیے کام کرنے پر بات کی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’ایک مشکل صورتحال میں یہ اچھی گفتگو تھی۔‘
انڈیا میں وزیر اعظم آفس کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹس میں کہا گیا ہے وزیرِ اعظم مودی کی صدر ٹرمپ سے فون پر ہونے والی گفتگو 31 منٹ تک جاری رہی جس میں دو طرفہ امور اور خطے کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم آفس کے مطابق خطے کی صورتحال پر ہونے والی گفتگو میں وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو مطلع کیا کہ ’خطے میں بعض رہنماؤں کی جانب سے انڈیا مخالف اشتعال انگیزی امن کے لیے موزوں نہیں ہے۔‘
’وزیر اعظم (مودی) نے دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول کی تشکیل اور بغیر کسی رعایت کے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
انڈین پی ایم او کی جانب سے ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے غربت، ناخواندگی اور بیماریوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اس راستے پر چلنے والے ہر فرد کے ساتھ تعاون کرنے کے انڈیا کے عزم کا اعادہ کیا اور وزیر اعظم مودی نے صدر ٹرمپ کا ان کے ساتھ مستقل رابطے میں رہنے پر شکریہ بھی ادا کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان ہوگن گیڈلے کا صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں کہنا تھا کہ ’امریکی صدر نے دونوں رہنماؤں کو انڈیا اور پاکستان کے مابین تناؤ کو کم کرنے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل گذشتہ شب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عمران خان کا صدر ٹرمپ سے دوبارہ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیر کی شب رات 10 بجے ہونے والی گفتگو میں وزیر اعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کو مودی کے اقدام کی وجہ سے خطے کی صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ مودی حکومت کے پانچ اگست کے یک طرفہ اقدام نے خطے کے امن و امان کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پیر کی شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی اور کہا کہ خطے کا امن برقرار رہنا چاہیے اور اس حوالے سے امریکی صدر نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی آگاہ کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی 16 اگست کو صدر ٹرمپ سے گفتگو ہوئی تھی۔









