برطانیہ حزب اللہ سے رابطے کے لیےتیار

حسن نصراللہ
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ حزب اللہ سے روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے: برطانوی وزیر

برطانوی حکومت نے بتایا ہے کہ وہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کےسیاسی دھڑے سے روابط بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

برطانوی حکومت نے سن دو ہزار پانچ میں حزب اللہ سے ہر قسم کے روابط پر پابندی عائد کر دی تھی۔ برطانیہ نے گزشتہ سال حزب اللہ کے فوجی بازو کو ممنوعہ تنظیم قرار دیا تھا۔ برطانیہ الزام لگاتا رہا تھا کہ حزب اللہ عراقی مزاحمت کاروں کی تربیت کرتا ہے۔

لیکن اب برطانوی افسروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ چونکہ لبنان کی متحدہ حکومت میں شامل ہوگئی ہے اس لیے اس سے رابطہ ناگزیر ہوگیا ہے۔

حزب اللہ کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے وزیر بل رامل نے پارلیمانی کمیٹی سے کو بتایا کہ برطانوی حکومت حزب اللہ کے سیاسی بازو سے روابط بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

لبنان میں برطانیہ کے سفیر حزب اللہ کے ایک سیاستدان سے ملاقات کر چکے ہیں۔

البتہ برطانوی وزیر نے کہا کہ فلسطینی تنظیم حماس کے بارے میں برطانیہ کی سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس جب تک تشدد کی راہ سے ہٹنے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کرتی اس وقت اس سے کسی قسم کا رابطہ ممکن نہیں ہے۔