امریکہ اور روس تعلقات: مشکلات اور مستقبل

کلنٹن اور لیروو
،تصویر کا کیپشنکلنٹن اور لیروو کی اس ملاقات کے بعد امریکی صدر اور روسی صدر کی ملاقات دو اپریل کو لندن میں ہو گی
    • مصنف, پولا رینولڈز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی روس کے وزیر خارجہ سرجی لیروو کے ساتھ پہلی ملاقات کے ساتھ ہی وقت آ گیا ہے کہ نئی صورتحال کو نئی پالیسیوں کی شکل دی جائے۔

جمعرات کو جنیوا میں نیٹو کے ہونے والے اجلاس میں نیٹو ممالک کے وزراء خارجہ بشمول ہیلری کلنٹن نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ نیٹو اور روس میں تعلقات استوار کیے جائیں۔ یہ تعلقات پچھلے سال روس کی جارجیا میں کارروائی کے بعد سے معطل ہو گئے تھے۔

کلنٹن اور لیروو کی اس ملاقات کے بعد امریکی صدر اور روسی صدر کی ملاقات دو اپریل کو لندن میں ہو گی جہاں دونوں صدور جی ٹوئنٹی معاشی اجلاس میں شرکت کے لیے جائیں گے۔

حالی ہی میں امریکی نائب صدر جو بائڈن نے کہا تھا کہ روس کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار کرنے کا بٹن دبا دیا گیا ہے۔ اور اسی سلسلے میں ہیلری کلنٹن نے بھی روس کے ساتھ از سر نو تعلقات استوار کرنے کی بات کی تھی۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ آیا ماسکو اور واشنگٹن شریک کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں یا حریف۔

روس اور مغرب کے درمیان تعلقات پچھلے کئی سالوں میں بہت خراب ہو گئے ہیں۔ کیا اس میں تبدیلی آ سکے گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تعلقات میں بہتری تو آئے گی لیکن سب اچھا ہونے والے حالات نہیں ہوں گے۔ اس سلسلے میں چند ایشوز ہیں جن کو حل کرنا ہو گا۔

میزائل شیلڈ

میزائل شیلڈ شائد تعلقات کی بہتری کے درمیان حائل سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

امریکی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ میزائل شیلڈ کے حل کے لیے ضروری ہے کہ روس ایران کو انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائل فراہم نہ کرے۔ اس سلسلے میں ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ اگر ایران کے پاس دور مار کرنے والے میزائل نہیں ہو گے تو میزائل شیلڈ کی ضرورت کم از کم مشرقی یورپ میں نہیں ہو گی جس پر روس کو اعتراض ہے۔

لیکن اس تجویز کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایران اپنے راکٹ بنانے پر عزم رکھتا ہے۔ اگرچہ ایران کو انٹر کانٹینینٹل بیلسٹک میزائل بنانے میں چند سال لگ جائیں گے لیکن یہ نہیں معلوم کہ روس ایران کو کیسے روک سکتا ہے۔

صدر اوباما اگلے چند ہفتوں میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں
،تصویر کا کیپشنصدر اوباما اگلے چند ہفتوں میں ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں

امریکہ کا کہنا ہے کہ میزائل شیلڈ روکنا روس کا ایران کو روکنے سے مشروط ہے لیکن روس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس بات سے مشروط نہیں ہے۔

تاہم اس سلسلے میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے لیکن کوئی ضمانت نہیں ہے۔

ایٹمی ایران؟

اس سلسلے میں روس اور امریکہ میں ایک بات مشترکہ ہے۔ روس ایران پر مزید پابندیاں لگانے کے حق میں نہیں ہے اور دوسری طرف امریکہ ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہے کہ دیکھ سکے کہ ایران اس مسئلے پر لچک کا مظاہرہ کرتا ہے یا نہیں۔

لیکن اگر ایران ایٹمی پروگرام روکنے پر تیار نہیں ہوتا تو یہ ایک بڑا بحران بن سکتا ہے۔ اسرائیل پہلے ہی تنبیہ کر رہا ہے کہ وہ 'ایٹمی ایران' کو برداشت نہیں کرے گا۔

افغانستان:

ہیلری کلنٹن نے افغانستان پر بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے جس پر روس کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ لیکن یہ بہت حساس معاملہ ہے۔

روس افغانستان میں طالبان کی حکومت نہیں چاہتا اور دوسری طرف امریکہ کو شک ہے کہ کرغزستان میں امریکی مناس اڈہ بند کرنے میں روس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ مناس اڈہ افغانستان میں عالمی فوجوں کی اشیاء کی رسد کی جاتی تھی۔

روس نے کہا ہے کہ اس کے ملک سے اسلحہ رسد نہیں کیا جائے گا لیکن اس سلسلے میں مزید بات چیت جاری ہے۔ اس کانفرنس میں روس کو اپنے آپ کو یہ کہنے سے روکنا ہو گا کہ 'ہم نے پہلے ہی کہا تھا'۔

ایٹمی اسلحہ:

اس سلسلے میں اتفاق ہو سکتا ہے۔ دونوں اس بات پر راضی ہیں کہ سٹریٹیجک ایٹمی اسلحے میں کمی کی جائے اور جلد ہی بات چیت کا آغاز کیا جا سکے گا۔ تاہم ان کو دسمبر میں سٹارٹ معاہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے متفق ہونا پڑے گا۔

اس کے علاوہ ایٹمی میزائل وار ہیڈ کی تعداد کم کرکے ایک ہزار تک لانے پر بپی بات جاری ہے۔ اس کے علاوہ دو ہزار بارہ تک تعینات کیے گئے وار ہیڈ کی تعداد بھی زیادہ سے زیادہ بائیس سو رکھیں گے۔

روس صرف تعینات کیے گئے وار ہیڈ ہی نہیں بلکہ دیگر وار ہیڈ میں بھی کمی چاہتا ہے۔

نیٹو ممبر شپ:

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یوکرین اور جارجیا کب نیٹو کا ممبر بنے گا۔ ان کو ایک سال قبل اصولی طور پر وعدہ کیا گیا تھا لیکن عملی طور پر ان کی ممبر شپ بہت دور ہے۔ روس ان دونوں ممالک کی نیٹو میں ممبر شپ کے خلاف ہے۔

دہشت گردی:

کیا کسی کے پاس مشرق وسطٰی کے مسئلے کے حل کے لیے کوئی نئی تجاویز ہیں؟ ہیلری کلنٹن نے اس بات کو دہرایا کہ امریکہ دو ریاستی حل پر قائم ہے اور اس سلسلے میں روس بھی اس کے حق میں ہے۔

امریکہ اپنے ایلچی شام بھیج رہا ہے تاکہ یہ معلوم کرسکے کہ نئی امن کوشش کی جائے۔

جہاں تک جارج بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو وہ افادیت کھو چکی ہے لیکن ابھی بھی ممالک کی مدد کی ضرورت ہے۔

روس کو ابھی بھی چیچنیا سے اٹھنے والی دہشت گردی کا خطرہ ہے اور اسی لیے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتا رہے۔ لیکن یہ کب تک جاری رہے گا؟

برطانیہ اور روس کے تعلقات جلا وطن ایلیگزینڈر کے قتل پر خلاف ہو گئے تھے اور شک و شبہات ابھی باقی ہیں۔