’ایران کے پاس اعلٰی افزودہ یورینیم نہیں‘

 ڈینس بلیئر
،تصویر کا کیپشنہمارا اندازہ ہے ایران کے پاس اعلٰی درجے کا افزودہ یورینیم نہیں ہے: ڈینس بلیئر

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس موجود یورینیم جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال نہیں ہو سکتا۔

یہ بات امریکی قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ڈینس بلیئر نے امریکی سینیٹز کو بتائی ہے۔ ڈینس بلیئر کے مطابق ایران کے پاس صرف کم افزودہ یورینیم ہے اور اگر ایران جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہے تو اسے اس یورینیم پر مزید کام کرنا پڑے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ ایران نے تاحال یہ کام کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے‘۔ ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے تاہم مغربی ممالک ایران پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ وہ جوہری عزائم رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی قومی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کا یہ بیان امریکی جوائنٹ چیف آف سٹافس کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایڈمرل مولن نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری بم بنانے کے لیے درکار مواد موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہفتۂ رواں کے آغاز میں اسرائیلی خفیہ ادارے کے اعلٰی اہلکار اموس یادلن نے کہا تھا کہ ایران نے ضروری ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے اور وہ اب جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم ان بیانات کے برعکس ڈینس بلیئر نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ اسرائیلی صرف بدترین حالات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہمارا اندازہ یہ ہے ایران کے پاس اعلٰی درجے کا افزودہ یورینیم نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کے پاس کچھ کم درجے کا افزودہ یورینیم ہے لیکن جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار یورینیم حاصل کرنے کے لیے جس قسم کی ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے ایران ویسی ٹیکنالوجی نہیں رکھتا۔

امریکی ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل مائیکل میپلز نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے پاس بھی یہی معلومات ہیں لیکن وہ ان سے مختلف نتیجہ اخذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ’ اسرائیلی اس سلسلے میں بہت سے خدشات رکھتے ہیں‘۔

ڈینس بلیئر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کنولی کا کہنا ہے کہ امریکی اعلٰی عہدیدار کا بیان صدر اوباما کی جانب سے ایران سے سفارتی روابط میں اضافے کی کوششوں کا غماز ہے۔