سری لنکا، سینکڑوں بچے ہلاک، زخمی

سری لنکا
،تصویر کا کیپشنخوراک، پانی اور ادویات کی کمی شدید قلت کے باعث ہزاروں بچوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے: یونیسیف

اقوام متحدہ کی بچوں کے حوالے سےتنظیم یونیسیف کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں مسلح تصادم کے نتیجے میں سینکڑوں بچے ہلاک اوراس سے زائد بچے زخمی ہوئے ہیں۔

یونیسیف نے مزید کہا ہے کہ خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت کے باعث ہزاروں بچوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔

ایک اندازے کے مطابق فوج اور تامل ٹائیگرز کے مابین لڑائی میں ستر ہزار سے دو لاکھ شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یونیسیف کی ایگڑیکٹو ڈائریکٹر این وینیمن نے کہا ’تصادم میں پھنسے بچے اور ان کے خاندانوں کو بیماری اور غذا کی کمی کے باعث جان کا خطرہ ہے۔‘

’امدادی تنظیموں کو باقاعدگی سےتصادم کے علاقے میں جانے کی اجازت فوری طور پر دی جانی چاہیے تاکہ ضروری اشیاء پہنچائی جا سکیں اور شہریوں کو محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کرنے کی اجازت دی جائے جہاں امدادی سامان موجود ہو۔‘

این نے مزید کہا ’بچوں کے حقوق کی پاسداری کی جائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے کہ شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

دوسری طرف عالمی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ جنوب میں شہریوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے ریڈ کراس کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی علاقے میں روزانہ کی شیلنگ اور پانی اور نکاسی آب کی کمی سے لوگوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا کے جنوب مشرق علاقے میں پچھلے چند ماہ سے فوج اور تامل ٹائیگرز کے درمیان لڑائی جاری ہے اور فوج نے تامل ٹائیگرز کے کئی ٹھکانے تباہ کیے ہیں۔