حماس کے دس رہنماؤں کی گرفتاری

ناصر شعیر
،تصویر کا کیپشنحراست میں لیے جانے والوں میں سابق نائب وزیر اعظم ناصر شعیر بھی شامل ہیں

اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت ناکام ہونے کے دو روز بعد اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقے سے دس حماس رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان نے حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو دہشتگرد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’حراست میں لیے گئے افراد حماس کے دہشتگردی کی تنظیم کو دوبارہ بنانے میں شامل ہیں‘۔

حماس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد میں اسمبلی کے چار ممبران اور سابق نائب وزیراعظم بھی شامل ہیں جبکہ ایک فرد کا تعلق علم و ادب کی دنیا سے ہے۔حراست میں لیے گئے افراد میں ناصر شعیر بھی شامل ہیں جو سنہ دو ہزار چھ میں فلسطینی اتھارٹی نائب وزیر اعظم رہے ہیں۔ ان کو بابلس میں حراست میں لیا گیا جبکہ چار دیگر افراد کو جنین کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ عمل حماس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ حماس اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کو رہا کرے۔غ زہ سے حماس کے ترجمان احمد بہار نے اس حراست کو بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کو امید تھی کہ نئی حکومت کے آنے سے قبل اسرائیلی فوجی سارجنٹ گیلاد شالت کی رہائی ہو جائے گی۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے سمجھوتے کی امید نامزد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی حکومت میں بہت کم ہے۔

حماس کے تیس سے زائد ممبران اسمبلی کو اسرائیل نے گیلاد کی حماس کے ہاتھوں حراست کے بعد حراست میں لیا ہے جبکہ حماس کا مطالبہ ہے کہ گیلاد کے بدلے میں چار سو فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں۔