حماس کی طرف سے اوباما کی تعریف

حماس کے رہنما ِخالد مشعل نے امریکی صدر براک اوباما کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر ’نئی زبان‘ میں بات کی ہے۔ مشعل نے ایک اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’صدر اوباما کی طرف سے خطے کے لیے نئی زبان سامنے آ رہی ہے‘۔
مشعل کا انٹرویو صدر اوباما کے اس خط کے تین روز بعد شائع ہوا جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ تعلقات میں ’نئی شروعات کی بات کی تھی‘۔
ایران اور شام جہاں خالد مشعل جلا وطنی کاٹ رہے ہیں فلسطینی تنظیم حماس کے اہم حمایتی ہیں۔ صدر اوباما کا ایرانی رہنماؤں اور عوام کے لیے پیغام کو امریکی پالیسی میں اہم تبدیلی سے تعبیر کیا گیا تھا۔
اس پیغام کے جواب میں ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ سے ٹھوس پالیس وضح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خال مشعل نے اپنے انٹرویو میں صدر اوباما کے ایران کے لیے پیغام کا حوالہ نہیں دیا۔ انہوں نے امریکہ کی طرف سے ’نئئ زبان‘ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سب کا امتحان یہ ہے کہ یہ امریکہ اور یورپ کی پالیسی میں کسی حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ہونا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک حماس کے ساتھ سرکاری سطح پر رابطے کا مسئلہ ہے وہ تھوڑے ہی وقت کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کو عرب اسرائیلی تنازعہ کے حل کے لیے ہماری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہمیت کی بنیاد ان لوگوں کی حمایت ہے جو انہیں ووٹ دیتے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔

















