سزائے موت کا خاتمہ قریب

چینی پولیس
،تصویر کا کیپشنچین سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں سے ہے

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹر نیشنل نے کہا ہے کہ بین الا قوامی سطح پر پھانسی کی سزا میں کمی کے رجحان سے امید ہے کہ یہ سزا جلد ہی ختم ہو جائے گی۔

ایمنسٹی کی یہ رپورٹ اپنی جگہ خوش آئند ہے لیکن اس کے اعداد و شمار کچھ ملا جلا تاثر دے رہے ہیں۔ کیونکہ ایمنسٹی کے سالانہ سروے کے مطابق سن دو ہزار آٹھ میں دو ہزار تین سو نوے افراد کو موت کی سزا دی گئی جو کہ سن دو ہزار سات کے اعداد و شمار سے کئی زیادہ ہے۔اور آٹھ ہزار آٹھ سو چونسٹھ کو پھانسی دی گئی جو کہ تقریبا ساڑھے تین ہزار سے کئی زیادہ ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں سزائے موت دینے والے پچیس ممالک میں چین گزشتہ برس کی طرح دوبارہ سرفہرست رہا ۔ مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال حوصلہ افزا ہے کہ یہ سزا دینے والے صرف انسٹھ ممالک رہ گئے ہیں جن میں بہت ہی کم ممالک نے اس کا فیصلہ سنایا۔

ایمنسٹی انٹر نیشنل کے سیکرٹری جنرل ایرن خان کا کہنا ہے ’سر قلم کرنا، سنگ باری اور بجلی کے جھٹکوں سے ہلاک کرنے کے جیسی سزاؤں کی اکیسویں صدی میں کوئی جگہ نہیں‘۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں پھانسی کی سزا پانے والے لوگوں کی تعداد میں اصافے کے باوجود ان کے مطابق پر امید ہونے کی کئی وجوہات ہیںْ۔’اچھی خبر یہ ہے کہ یہ سزا دینے والے ممالک کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہم پھانسی جیسی بڑی سزا سے نجات پانے کے قریب پہنچ گئے ہیں‘۔

ایمنسٹی نے ارجنٹینا اور ازبکستان کے پھانسی کی سزا کے خاتمے کو اپنی رپورٹ میں کا فی اہمیت دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے زہر کے انجکشن اور گولی مار کر تقریباً سترہ سو افراد کو موت کے گھاٹ اتارا لیکن بیجنگ سزائے موت کے حوالے سے اعداد و شمار شائع نہیں کرتا۔لہذا ایمنسٹی چین اور دوسرے ممالک کے اعدادوشمار کی تصدیق میڈیا رپورٹس، انسانی حقوق کے اداروں اور مخلتف سکاری بیانات کی بنیاد پر کرتا ہے۔

پھانسی دینے والے چھ سر فہرست ممالک میں سے صرف امریکہ اعداد و شمار شائع کرتا ہے۔ پھانسی کی سزا دینے والے دوسرے ممالک میں ایران تین سو چھیالیس ، سعودی عرب ایک سو دو ، پاکستان چھتیس جبکہ عراق چونتیس کی تعداد کے ساتھ سرفہرست ہیں۔