سینکڑوں تارکین وطن کی ہلاکتوں کا خدشہ

ساحل
،تصویر کا کیپشنغیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دو مزید کشتیاں جن میں لگ بھگ تین سو افراد سوار تھے بھی سمندر میں ڈوب گئی ہیں

لیبیا کے ساحل کے قریب غیر قانونی تارکین وطن سے بھری کشتی ڈوبنے سے دو سو کے قریب افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

لیبیا کے حکام کا کہنا ہے کہ یورپ کی جانب روانہ کشتی میں اطلاعات کے مطابق اڑھائی سو افراد سوار تھے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم اکیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تیئس افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

ایک اور کشتی جس میں لگ بھگ تین سو افراد سوار تھے اسے ڈوبنے سے بچا لیا گیا۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائگریشن کے لارنس ہارٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ تین کشتیوں کے ڈوبنے سے پانچ سو افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

’ابھی بھی چند لوگ کے بچائے جانے کا امکان ہے لیکن ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھے گی۔‘

ڈوبنے والی کشتی میں اڑھائی سو افراد سوار تھے اور ٹریپولی کے قریب سدی بلال سے روانہ ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی کشتی میں خرابی پیدا ہو گئی۔

مصر کے دفتر خارجہ کے ترجمان احمد رزق نے کہا کہ کشتی لیبیا کے ساحل سے تیس کلومیٹر اس وقت ڈوبی جب اس میں سوراخ ہو گیا۔ ’لیبیا نے ڈھونڈنے کے لیے کارروائی کی اور کچھ لاشیں نکالیں جن میں دس مصری شہری بھی شامل ہیں۔‘

لیبیا میں بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد نے بتایا کہ میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک عورت بھی شامل تھیں جنہوں نے گود میں ایک نوزائدہ بچے کو اٹھایا ہوا تھا۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (تارکینِ وطن کے لیے بین الاقوامی تنظیم) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ڈوبتے لوگوں کا بچانے کا عمل جلدی شروع ہو گیا کیونکہ پاس ہی ایک تیل کا پلیٹ فارم تھا جس نے کوسٹ گارڈز کو مطلع کیا جنہوں نے فوری کارروائی کر کے مدد کی۔