برطانوی افواج کا عراق سے انخلاء شروع

چار سو برطانوی فوجی عراق کی سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے عراق میں رہیں گے
،تصویر کا کیپشنچار سو برطانوی فوجی عراق کی سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے عراق میں رہیں گے

برطانوی میجر جنرل اینڈی سیلمن ملک کے جنوبی حصے کی کمان امریکی جنرل مائیکل اوٹس کے حوالے کر دیں گے۔ عراق میں موجود چار ہزار برطانوی فوجی میں سے زیادہ تر اکتیس مئی تک ملک چھوڑ دیں گے۔یاد رہے کہ اکتیس مئی جنگ بندی کے لیۓ سرکاری طور پر مجوزہ تاریخ ہے۔

البتہ چار سو کے قریب برطانوی فوجی عراق ہی میں قیام کریں گے جن میں سے بعض فوجی ہیڈ کورٹرز میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے جبکہ کچھ عراقی نیوی کی تربیت کریں گے۔

میجر جنرل سیلمن کا کہنا ہے کہ انہیں عراق میں گزشتہ چھ سالوں میں بہت سی کامیابیاں ملی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ برطانوی فوج نے علاقے میں سیکیورٹی قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

اور عراقی شہریوں کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔

اور معاشرتی و اقتصادی ترقی کے لیۓ حالات ساز گار کیۓ ہیں۔اور عراق چھوڑتے ہوئے ان کا سر فخر سے بلند ہے۔

جنوبی عراق میں امریکہ کا کردار قدرے مختلف ہو گا اور اس کی زیادہ توجہ عراقی پولیس کی تربیت اور بغداد اور جنوبی عراق کے درمیان سپلائی روٹ برقرار رکھنے پر رہے گی۔

بی بی ی کی دفاعی نامہ نگار کرولین وائٹ کے مطابق بصرہ میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اب صاف نظر آتی ہے اور برطانوی دستے گزشتہ چھ برسوں سے زیرِ استعمال عمارتیں اور فرائض دونوں امریکی فوج کو منتقل کر رہے ہیں۔