نتن یاہو، اسرائیل کے نئے وزیرِ اعظم

اسرائیل کی لیکود جماعت کے سربراہ بنیامن نتن یاہو نے دس سال بعد بدھ کے روز ایک بار پھر وزیرِ اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
وزیر اعظم نتن یاہو نے حلف لینے سے قبل پارلیمان سے کہا کہ اسرائیل کو معاشی اور سکیورٹی بحران سے نکالنے کے حوالے سے ان پر اعتماد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں سے مذاکرات کریں گے لیکن انہوں نے دو ریاستی حل کا ذکر نہیں کیا۔
بنیامن نتن یاہو کی کابینہ اب تک کی اسرئیل کی سب سے بڑی کابینہ ہے جس میں وزیرِ خارجہ لبر مین اور وزیرِ دفاع ایہود باراک ہوں گے۔ ایران کا جوہری پروگرام اس نئی کابینہ کا مرکزی ایجنڈا ہو گا۔
مغربی حکومتوں نے حکومتی اتحاد کے اس مؤقف پر تحفظات ظاہر کیے ہیں جس کے مطابق یہ اتحاد فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستوں کے قیام کی صورت میں کرنا چاہتا ہے۔
پیر کے روز نو منتخب اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اپنے پڑوسیوں اور باقی عرب دنیا کے ساتھ دیرپا امن کے تعلقات بنانے کے لیے ہر قدم اٹھاۓ گی۔
تاہم ماضی میں وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں ان کے خیال میں فلسطینیوں کو ایک الگ ریاست کی ضرورت ہے۔
آج دوپہر وہ اپنی کابینہ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کریں گے جس کے بعد پارلیمنٹ کے اراکین اس کے لیے ووٹ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرینکس کے مطابق اس کثیر الجماعتی کابینہ کے قیام کے لیے مذاکرات کا عمل کئی ہفتوں میں مکمل ہوا۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق نتن یاہو کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی لیبر پارٹی کو اتحاد میں شامل ہونے پر راضی کر لیا ہے۔ تاہم یہ ایک ایسا حکومتی اتحاد ہو گا جس کا جھکاؤ دائیں بازو کی جانب زیادہ رہے گا۔





















