گوانتانامو میں اب بھی آٹھ پاکستانی قید

- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
امریکہ کے محکمہ دفاع کی فہرست کے مطابق خلیج گوانتانامو کے قید خانے میں اکہتر پاکستانیوں میں سے تریسٹھ کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ آٹھ ابھی تک اس قید خانے میں بند ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکہ کی محکمہِ دفاع کی یہ فہرست شائع کی ہے اور اس میں کہا گیا کہ اس بدنام زمانہ قید خانے میں ابتدائی طور پر انچاس ملکوں سے تعلق رکھنے والے سات سو اناسی لوگوں کو لایا گیا تھا جس میں اب بھی دو سو اکتالیس افراد قید ہیں جبکہ پانچ سو تینتس کو متعلقہ ملکوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس قید خانے میں حراست کے دوران پانچ افراد کی موت بھی واقع ہو گئی تھی۔
فہرست کے مطابق عبد الرحمان، علی عبدالعزیر، مجید خان، سیف اللہ پراچہ اور خالد شیخ محمد ان آٹھ پاکستانیوں میں شامل ہیں جن کو ابھی تک پاکستان منتقل نہیں کیا گیا۔ خالد شیخ محمد کو گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے امریکہ پر حملوں کا منصوبہ ساز قرار دیا جاتا ہے۔
فہرست میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جو افراد اب بھی قید میں ہیں ان کے خلاف اصل الزامات کیا ہیں۔ اس کے علاوہ فہرست میں یہ بھی کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ آیا ان قیدیوں کو متعلقہ ملکوں کو منتقل کیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے یا وہ اب بھی قید ہیں۔
امریکہ محکمہ دفاع کی اس فہرست میں سب سے زیادہ تعداد افغانستان سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ دو سو اکیس افغان قیدیوں کے بعد سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک سو انتالیس افراد تھے جبکہ یمن کے باشندوں کی تعداد ایک سو گیارہ تھی۔ تعداد کے حوالے سے پاکستان کا نمبر چوتھا تھا جس کے اکہتر قیدی اس قید خانے میں لائے گئے تھے۔
ان ملکوں کے علاوہ الجیریا، چین، مراکش، سوڈان، تیونس، کویت، تاجکستان، شام، لیبیا، برطانیہ، لبنان، روس، عراق، ایران، متحدہ عرب امارات، فرانس، ازبکستان، بحرین، مصر، ترکی، قازقستان، سومالیہ، بوسنیا، غزہ، مورطانیہ، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، فلسطین، بیلجیم، کینیڈا، ملیشیاء، آذربئجان، سویڈن، سپین ، چاڈ ، ڈنمارک، قطر اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے افراد اس قید خانے میں قید تھے۔
بھارت وہ واحد ملک ہے جہاں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں لیکن وہاں سے تعلق رکھنے والا ایک مسلمان بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گرفتار کرکے گوانتانامو بے نہیں لے جایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر براک اوباما نے اس سال فروری میں عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد گوانتانامو بے کے قید خانے کو بند کرنے کے احکامات جاری کیئے تھے۔ یہ فیصلہ صدر اوباما کی طرف سے کیئے جانے والے فیصلوں میں سب سے پہلا فیصلہ تھا۔
صدر اوباما کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ یہ قید خانہ جو دنیا بھر میں امریکہ کے لیے شرمندگی کا باعث بھی رہا تھا ایک سال کے اندر بند کر دیا جائے گا۔






















