القاعدہ سے یورپ کو خطرہ

امریکہ سے زیادہ یورپ کو القاعدہ سے زیادہ خطرہ ہے: اوباما
،تصویر کا کیپشنامریکہ سے زیادہ یورپ کو القاعدہ سے زیادہ خطرہ ہے: اوباما

امریکی صدر نے نیٹو ممالک سے کہا ہے کہ القاعدہ سے پوری طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ القاعدہ امریکہ سے زیادہ یورپ کو خطرہ ہے۔

نیٹو کانفرنس میں شرکت سے پہلے امریکی صدر اوبامہ نے کہا کہ امریکہ یورپ کے مضبوط دفاع کو دیکھنا چاہتا ہے ۔ براک اوباما نے کہا کہ امریکہ یورپ کا پارٹنر بننا چاہتا ہے نہ کہ پیٹرن۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے افغانستان قوانین مجوزہ قوانین کے مسودے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانی حقوق کے خلاف ہیں اور اپنے فوجیوں کیسے قائل کر لیں جو وہاں اپنی جانیں دے رہے ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ افغانستان میں مزید وسائل ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ جو وسائل ہیں ان کا صیح استعمال اصل معاملہ ہے۔

امریکی صدر نے فرانسیسی صدر کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہوں سے نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ پر بھی حملہ کیا جا سکتا ہے۔صدر اوبامہ نے کہا: ’درحقیقت اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ القاعدہ یورپ کے نزدیک ہونےکی سے اس پر حملہ کرنےمیں کامیاب ہو جائے۔‘

صدر براک اوباما نے کہا کہ افغانستان میں مشن نہ امریکی اور نہ ہی یہ یورپی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی مشن ہے‘۔

نیٹو کےسیکرٹری جنرل نے کہا کہ افغانستان نیٹو ممالک کو افغانستان میں مزید وسائل لگانے پر قائل کرنے میں افغانستان میں مجوزہ قوانین سب سے بڑی روکاوٹ ہیں۔

فرانس نے پچھلے ماہ نیٹو میں واپس آنے کا اعلان کیا تھا۔ فرانس کئی عشروں تک نیٹو سے دوری پر تھا۔ فرانس نیٹو آپریشنز میں حصہ لیتا رہا ہے لیکن کی اس کی پلاننگ میں شامل نہیں رہا ہے۔