بغداد: کئی دھماکے، تیس سے زیادہ ہلاک

بغداد میں دھماکے
،تصویر کا کیپشنعراق میں بہت عرصے کے بعد امریکی فوجی کی ہلاکت ہوئی ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد میں پیر کو یکے بعد دیگرے بم دھماکوں میں تیس سے زیادہ لوگ ہلاک اور کم سے کم ایک سو تیس زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک دھماکہ صدر میں ہوا جہاں دس لوگ ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوئے۔ ایک اور دھماکہ شہر کے مصروف مرکزی علاقے الاوی میں ہوا جہاں چھ مزدور اس کا نشانہ بن گئے۔

عراق میں اس وقت سن دو ہزار تین کے بعد تشدد سب سے نچلی سطح پر ہے۔ لیکن اب بھی شدت پسندوں کے پاس بڑے حملے کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس طرح کے حملوں میں جنوری اور فروری میں دو سے زیادہ ہلاک ہوئے۔

جنوری میں ایک سو اکانوے لوگ ہوئے جو سن دو ہزار تین کے بعد سے اس مہینے میں ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے۔

کچھ امریکی فوجی اور عراقی حکومت میں شامل حکام نجی محفلوں میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عراق میں پیر کے روز ہونے والے دھماکوں کے بارے میں ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ دریں اثناء امریکی فوجی نے کہا ہے کہ صوبے دیالہ میں ان کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔