امریکہ، برطانیہ میں بلوچوں کے مظاہرے

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانے کے سامنے پاکستان میں تین بلوچ رہنماؤں کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے جس میں شرکاء نے بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن روکنے اور فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی صوبے سے مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر مرکزی لندن میں بی بی سی کے دفتر کے سامنے بھی بلوچوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
شرکاء نے اقوام متحدہ سے بھی بلوچستان کے شہر تربت سے اغوا اور پھر قتل کیے جانے والے تین بلوچ رہنماؤں کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانے کے سامنے اس احتجابی ریلی کا انتظام فرینڈز آف بلوچستان کے نام سے قائم کی گئي ایک تنظیم نے کیا تھا۔
ریلی سے انیس سو اڑتالیس میں پہلی بلوچ بغاوت کے رہنما شہزادہ عبد الکریم کے نواسے زین مگسی نے بھی خطاب کیا۔ امریکن فرینڈز آف بلوچستان نامی تنظیم کی ایک پریس ریلیز کے مطابق بلوچ حقوق کے سرگرم کارکن مقبول عالیانی نے ریلی کے آغاز پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’بلوچوں کی جدوجہد اب صوبائي حقوق و خود مختاری کے لیے نہیں لیکن مکمل آزادی کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ ہم (بلوچوں) نے پاکستانی حکومت کےساتھ مذاکرات کی کوشش بھی کرلی جس کے جواب میں ہمیں موت اور تباہی دیکھنی پڑی۔
انہوں نے کہا کہ تمام بلوچوں کو دیوار سے لگاکر اس ناقابل واپسی نقطے پر پہنچا دیا گيا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے‘۔
انیس سو اڑتالیس میں بلوچ بغاوت کے بانی پرنس عبد الکریم کے نواسے زین مگسی نے مظاہرین سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’بلوچستان کے ذخائر کو پاکستانی فوجی و سول حکومتوں کے مفاد میں استعمال کیا جارہا ہے اور یہ سلسلہ نصف صدی سے جاری ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احتجاجی ریلی کے دوران قتل ہونے والے بلوچ رہنماؤں کے قریبی دوست اکرم بلوچ، جاپانی ماہر سماجیات ٹوموہیرو یوکو ہاوا، تنظیم کے رہنماؤں لاری ڈیمر اور نبی بلوچ، قطر کے بلوچ قوم پرست کریم بخش، سندھی دانشور پرفیسر جاوید بھٹو اور انسانی حقوق کے دیگر سرگرم کارکنوں نے خطاب کیا۔
کریم بخش نے کہا کہ دنیا کو پاکستانی حکومت غلط تاثر دے رہی ہے کہ طالبان اور بلوچ ایک ہی ہیں لیکن اصل حقیقیت یہ ہے کہ بلوچ سیکولر ہیں اور طالبان سے مقابلہ کرسکتے ہیں جبکہ پاکستانی ریاست نے طالبان کی پشت پناہی کرکے دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ریلی کے اختتام پر مظاہرین نے بلوچ رہنماؤں کے قتل سے متعلق ایک احتجاجی مراسلہ بھی پاکستانی سفارتخانے کےحوالے کیا۔





















