ایرانی صدر کا خطاب اور مسخرے

- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, جینیوا، سویٹزرلینڈ
جنیوا میں جاری نسل پرستی کے خلاف ڈربن ریویو کانفرنس کے پہلے روز ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کی تقریر اور پھر پریس کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ میں نے اپنی زندگی میں انہیں پہلی بار دیکھا تھا۔
جب میں جنیوا پہنچا تو سب سے پہلے پریس رجسٹریشن کے مرحلے سے گزر کر پریس سینٹر میں پہنچا تو تمام خواتین و حضرات صرف احمدی نژاد کے اس کانفرنس سے خطاب اور مختلف ممالک کے بائیکاٹ کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔
جنیوا کے وقت کے مطابق ایرانی صدر کا خطاب تین بجے تھا۔ پریس گیلری میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی۔ میں نے دوسری گیلریز میں جانےکی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ پھر واپس مجبوراً پریس گیلری میں آکر کھڑا ہونا پڑا۔
ایرانی صدر کی تقریر سے قبل سخت حفاظتی اقدامات کیے جارہے تھے اور سکیورٹی اہلکار بار بار ہر شخص کا بیج چیک کر رہے تھے۔
جیسے ہی ایرانی صدر تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو پریس گیلری میں موجود ایک شخص نے ان کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے اور نیچے ہال میں موجود ایک شخص نے ان کی جانب بڑھ کر کاغذ کا گولا بنا کر پھینکا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے فوراً ہی دونوں کو پکڑ کر ہال سے باہر نکال دیا۔ ان دونوں حضرات نے اپنے سر پر مصنوعی بالوں کی رنگا رنگ وگ بھی پہن لی تھی۔
جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا اس دوران ایرانی سفارتی عملہ اور ڈپلومیٹک گیلری میں موجود کئی خواتین و حضرات جو اپنے حلیے سے ایرانی معلوم ہو رہے تھے زور زور سے تالیاں بجانے لگے۔
محمود احمدی نژاد نے اپنی تقریر فارسی زبان میں کی اور مجھے انگریزی ترجمے پر انحصار کرنا پڑا۔
ایرانی صدر کی پوری تقریر کے دوران گیلری کے کسی نہ کسی حصے سے کوئی مرد یا خاتون کھڑے ہوکر ایرانی صدر کے خلاف نعرے لگانے لگتا اور پھر سکیورٹی اہلکار انہیں پکڑ کر باہر لے جاتے۔ جیسے ہی کوئی کھڑا ہوتا تو ایرانی سفارت کار اور ان کے دیگر ساتھی پورے زور سے تالیاں بجانے لگتے جس سے احتجاجی تعرے لگانے والے شخص کی آواز کم از کم دب ضرور جاتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پوری تقریر کے دوران ایسا کوئی بارہ مرتبہ ہوا مگر ایک بار بھی مجھے احتجاج کرنے والے کے الفاظ سمجھ میں نہیں آئے۔ جس پر مجھے اندازہ ہوا کہ اس مرتبہ ایرانی عملہ بھی مکمل تیاری کے ساتھ آیا ہے۔
اپنی تقریر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے حق کو غیر جمہوری اور امتیازی قرار دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ یہ بھی ایک طرح کی نسل پرستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو کی موجودگی اور خطے میں مغربی تسلط کی کوششیں علاقے کا امن خراب کر رہے ہیں۔ اگر آج نیٹو چلا جائے تو خطے میں امن ہو جائے گا۔
ایرانی صدر کی تقریر کے دوران ایک ایک کرکے تقریباً تمام مغربی ممالک کے نمائندے واک آؤٹ کر گئے۔
چالیس منٹ کے خطاب کے بعد ایرانی صدر پریس کانفرنس کے لیے آئے۔ پریس کانفرنس کے کمرے کے باہر بھی کئی افراد سرکس کے مسخروں کا حلیہ بنا کر کھڑے تھے اور ایرانی صدر کے خلاف نعرے لکھے ہوئے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
ایرانی صدر کی پریس کانفرنس میں مجھے ایک بات کا اندازہ ضرور ہوا کہ کم از کم ایران کا صدر سوال ضرور سنتا ہے۔ اس کا جواب دینا یا نہ دینا الگ بات ہے۔
اب سے کوئی تین ہفتے پہلے فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں نیٹو کے سالانہ اجلاس کے موقع پر مجھے امریکی صدر براک اوباما کی پریس کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ براک اوباما کے پاس ایک فہرست تھی جس میں صحافیوں کے نام لکھے ہوئے تھے اور وہ ایک ایک کر کے ان ناموں کو پکارتے گئے اور آخر میں انہوں نے بطور احسان کہا کہ میں اب دو غیر امریکی صحافیوں کے سوالات بھی سن لیتا ہوں تاکہ ہمارے دنیا سے تعلقات اچھے رہیں۔ مگر انہوں نے جن دو افراد کی جانب سوالات کے لیے اشارہ کیا ان کے سوال سن کر ایسا لگا کہ وہ دونوں ہی پی آر جرنلسٹ ہیں۔ ایک نے پوچھا یورپ کا تجربہ کیسا لگا دوسرے نے پوچھا امریکہ اور یورپ کے تعلقات کتنے مضبوط ہوئے ہیں۔ جس کے بعد امریکی صدر چلے گئے۔

مگر ایرانی صدر نے بڑے تحمل کے ساتھ صحافیوں کے تلخ سوال سنے اور ان کا جواب بھی کسی حد تک دیا۔ ان کے پاس کوئی لسٹ نہیں تھی۔ انہوں نے کسی ایرانی صحافی کو مخاطب نہیں کیا، بلکہ میں نے خود دیکھا کے کانفرنس روم بھر جانے کے باعث ایران کا سرکاری میڈیا کمرے سے باہر کھڑا رہا۔
اس سارے قضیے کے بعد وہی ہوا جس کی امید تھی۔ کئی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنی پریس کانفرنس میں ایرانی صدر کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور انکشاف کیا کہ ان کی تقریر سے پہلے انہوں نے خود ایرانی صدر سے مل کر ان سے درخواست کی تھی کہ ماضی کی غلطیوں کو دوہرانے کے بجائے مستقبل کو بہتر بنایا جائے مگر ایرانی صدر نے ان کی بات نہ مانی۔
جنیوا میں نسل پرستی کے خلاف کانفرنس کا پہلا دن ایرانی صدر کی تقریر اور ہنگامے کی نظر ہوگیا جس کی وجہ سے کئی ممالک نے پہلے ہی اس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب مغربی میڈیا میں ایران کے خلاف پائے جانے والے جذبات میں کتنا اضافہ ہوگا۔





















