لاکربی:اپیل کی سماعت شروع

لاکربی حملے کے مجرم المقرحی (فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنالمقرحی کو سنہ 2001 میں عدالت نے سمآئے قید سنائی تھی

سکاٹ لینڈ کی ایک عدالت نے انیس سو اٹھاسی کے لاکربی بم حملے کے مجرم عبد الباسط المقرحی کی دوسری اپیل کی سماعت شروع کر دی ہے۔

کیس کا تعلق اس واقعے سے ہے جس میں اکیس سال پہلے امریکی فضائی کپمنی پین ایم کا ایک طیارہ سکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی کے اوپر بم کے دھماکے میں تباہ ہو گیا تھا۔ دھماکے میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پین ایم کی یہ پرواز لندن سے نیو یارک جا رہی تھی۔

کیس میں کہا گیا تھا کہ اس بم حملے کے پیچھے لیبیا تھا اور سنہ دو ہزار ایک میں المقرحی کو مجرم قرار دے کر انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ سنہ دو ہزار دو میں ان کے اس فیصلے کے خلاف پہلی اپیل عدالت نے مسترد کر دی تھی۔ تاہم بعد میں سکاٹ لینڈ کے ایک عدالتی ریویو کمیشن نے اس کیس کا جائزہ لیا تھا اور چار سال کی تفتیش کے بعد اس فیصلے کو ’غیر محفوظ‘ قرار دیا تھا۔

المقرحی پچھلے سال سے پراسٹیٹ کینسر کے مریض ہیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی شفایابی ممکن نہیں ہے۔

المقرحی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ المقرحی کے مقدمے میں ججوں نے کچھ ایسے شواہد شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا جس سے استغاثے کے کیس کمزور ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان شواہد سے استغاثے کے اس گواہ کے بیان کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں جس نے المقرحی کی شناخت کی تھی۔ مالٹا کے اس دکاندار کا کہنا تھا کہ المقرحی ہی نے اس کی دکان سے وہ کپڑے خریدے تھے جن میں پھر بم کو لپیٹا گیا تھا۔

المقرحی کے وکیل کہتے ہیں کہ مقدمے کے وقت ایک غیر ملکی حکومت کی طرف سے برطانوی حکومت کو بھیجی گئی دستاویزات المقرحی کے وکیلوں کو نہیں دکھائے گئے تھے حالناکہ استغاثے کے وکیلوں نے یہ دیکھ لیے تھے۔ برطانوی وزیر خارجہ نہیں چاہتے کہ ان خفیہ دستاویزات کو منظر عام پر لایا جائے تاہم اپیل کے لیے ایک خصوصی وکیل کو مقرر کیا گیا ہے جو ان دستاویزات کی روشنی میں المقرحی کے مفافدات کا دفاع کرے گا۔

المقرحی کی اپیل کی سماعت پانچ جج کر رہے ہیں۔